پاکستان میں غذائی تحفظ اور حفظانِ صحت کا مسئلہ خاموشی سے ایک سنگین عوامی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ غیر معیاری خوراک، ناقص صفائی اور کمزور نگرانی کے باعث روزانہ لاکھوں افراد ایسی غذا استعمال کرنے پر مجبور ہیں جو مختلف بیماریوں کا سبب بنتی ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف عوامی صحت بلکہ قومی معیشت کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔
غذائی تحفظ کا مقصد خوراک کو جراثیم، کیمیائی آلود گی اور ملاوٹ سے محفوظ رکھنا ہے، تاہم ہمارے ہاں خوراک کی تیاری اور فروخت کے دوران صفائی کے بنیادی اصول اکثر نظرانداز کیے جاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ اسہال، ٹائیفائیڈ، ہیپاٹائٹس اور فوڈ پوائزننگ جیسی بیماریوں کی صورت میں سامنے آتا ہے، جن کا بوجھ پہلے سے کمزور صحت کے نظام پر پڑتا ہے۔
اس مسئلے کی بڑی وجوہات میں خوراک تیار کرنے والوں میں آگاہی کی کمی، فوڈ قوانین پر کمزور عملدرآمد اور غربت شامل ہیں۔ اسٹریٹ فوڈ اور سستی خوراک شہری علاقوں میں خاص طور پر صحت کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ بیمار افراد کی کام اور تعلیم سے غیر حاضری ملکی پیداوار کو متاثر کرتی ہے، جبکہ علاج پر بڑھتے اخراجات عوام اور ریاست دونوں کے لیے مشکلات پیدا کرتے ہیں۔
اس صورتحال کا حل اجتماعی کوششوں میں ہے۔ حکومت کو فوڈ سیفٹی قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانا ہوگا، میڈیا کو آگاہی کے ذریعے عوام میں شعور پیدا کرنا چاہیے اور شہریوں کو بھی صاف اور محفوظ خوراک کے انتخاب میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
محفوظ خوراک کوئی عیش نہیں بلکہ بنیادی ضرورت ہے۔ صحت مند قوم ہی مضبوط پاکستان کی ضمانت بن سکتی ہے۔




