امریکہ ایران جنگ بندی معاہدہ’ فریقین مکمل عملدرآمد کریں (اداریہ)

مشرق وسطیٰ کی صورتحال’ آبنائے ہرمز میں کشیدگی’ تیل کی ترسیل میں رکاوٹوں اور فریقین کے ایک دوسرے پر حملوں نے عالمی برادری کو پھر تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے بعد آبنائے ہرمز کے کھلا رہنے پر خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک ٹینکر پر میزائل حملہ بھی ہوا ہے، حملے میں ٹینکر کو نقصان پہنچا ہے تاہم عملہ محفوظ رہا۔ ایران نے ان رپورٹس کی تصدیق نہیں کی ہے۔ امریکی سنٹرل کمانڈ کا موقف ہے کہ حالیہ امریکی حملے’ جن میں ایران کے میزائل اور ڈرون ذخیرہ کرنے والے مقامات اور ساحلی ریڈار پوزیشنوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ”ایرانی افواج کی جانب سے تجارتی جہاز رانی کے خلاف بلاجواز جارحیت” کا جواب تھا جس نے واضح طور پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کی تھی۔ ایران نے کہا کہ ”یہ وحشیانہ حملے جنگ بندی کرنے کے معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہیں”، جو فروری کے آخر میں ایران پر امریکی’ اسرائیلی حملوں سے شروع ہوئی تھی۔ ایران کی پاسداران انقلاب نے کہا کہ انہوں نے خلیج کے علاقے میں امریکی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے اور ”اگر جارحیت دہرائی گئی تو ہمارا جواب اس سے بھی زیادہ وسیع ہو گا”۔ ایران نے بحری جہازوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ اجازت کے بغیر آبنائے ہرمز کے راستے خلیج میں داخل نہ ہوں اور نہ ہی وہاں سے نکلیں لیکن جہازوں کی آمدورفت جاری ہے جن میں سے کچھ ایسا راستہ استعمال کر رہے ہیں جس کی تہران نے اجازت نہیں دی ہے۔ یہ صورتحال دونوں ممالک کے درمیان دو ہفتے قبل ہونے والی عبوری امن معاہدے کے بعد اب تک کی سب سے بڑی فوجی کشیدگی ہے۔ واشنگٹن نے کہا کہ اس نے جمعہ اور ہفتے کی درمیانی رات ایرانی اہداف پر حملے کیے، جبکہ ایران نے کہا کہ اس نے جواباً ہفتے کے روز امریکی افواج سے منسلک اہداف کو نشانہ بنایا۔ ایران نے امریکا پر عبوری معاہدے کی شرائط پوری نہ کرنے کا الزام عائد کیا۔ خاص طور پر لبنان میں وعدہ کیے گئے جنگ بندی کو برقرار نہ رکھنے پر’ جہاں امریکی اتحادی اسرائیل نے مارچ میں ایران کے حمایت یافتہ گروہ حزب اﷲ کے خلاف کارروائی کی تھی۔ ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر محسن رضائی نے کہا کہ واشنگٹن نے خطے میں اپنے حمایت یافتہ گروہوں کے ذریعے کشیدگی پیدا کر کے اور آبنائے ہرمز میں تنائو بڑھا کر جنگ ختم کرنے والے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ عالمی توانائی بحران کے مکمل حل کیلئے ضروری ہے کہ آبنائے سے دونوں سمتوں میں جہازوں کی آمدورفت جنگ سے پہلے کی سطح پر بحال ہو، جو اسی صورت ممکن ہو گی جب جہاز ران اسے محفوظ سمجھیں۔ اگرچہ دہائیوں پرانی مخاصمت کو راتوں رات دوستی مین بدلنا ممکن نہیں لہٰذا گزشتہ ساڑھے چار دہائیوں سے زائد عرصے سے جاری سفارتی اور معاشی تنائو کے بعد باہمی اعتماد کو بحال کرنے کے لیے بتدریج ٹھوس اقدامات کرنا ہونگے، جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ بذات خود ایک بہت بڑا مسئلہ ہے اور خطے سمیت پوری دنیا کی بقاء صرف مذاکرات’ سفارتی پختگی اور باہمی روابط کو مضبوبط بنانے ہی میں پنہاں ہے۔ مفاہمتی یادداشت مشرق وسطیٰ کی سیاست میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر آنے والے دنوں میں مذاکرات کامیابی سے آگے بڑھتے ہیں اور ایک جامع امن معاہدے طے پا جاتا ہے تو یہ نہ صرف ایران اور امریکہ کے تعلقات میں نئی تاریخ رقم کرے گا بلکہ پورے خطے میں استحکام’ اقتصادی ترقی اور سفارتی تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم اگر معاہدے پر عمل درآمد میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں یا فریقین ایک دوسرے پر اعتماد قائم رکھنے میں ناکام رہے تو کئی دہائیوں کی دشمنی دوبارہ سر اٹھا سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ جنگ کے بعد شروع ہونے والا یہ سفارتی سفر امن کی منزل تک پہنچتا ہے یا نہیں۔ دونوں فریقین کو چاہیے کہ وہ جنگ بندی معاہدے کا احترام کریں۔ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی نہیں ہونی چاہیے۔ عالمی برادری بھی یہی جاہتی ہے کہ دنیا میں امن قائم ہو اور ہر کسی کو عالمی برادری کی رائے کا احترام کرنا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں