پاکستانی جامعات میں اے آئی کالس رومز اور چینی فنی تعلیم متعارف کرانے کا فیصلہ

بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان کے ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے چین کے اداروں کے ساتھ دو اہم تعاون کے معاہدوں پر دستخط کر دیے ہیں، جن کے تحت چینی فنی و پیشہ ورانہ تعلیم کے تجربات، مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے لیس کلاس رومز اور جدید تعلیمی ٹیکنالو جی پاکستا ن کی جامعات تک پہنچائی جائے گی۔ یہ معاہدے پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کے موقع پر بیجنگ لینگویج اینڈ کلچر یونیورسٹی کے ورلڈ سائنالوجی سینٹر میں طے پائے۔چائنہ اکنامک نیٹ کے مطابق پہلے معاہدے پر ایچ ای سی کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر اور چنگ ڈاؤ ہینگ شنگ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے صدر چن ہون فینگ نے دستخط کیے۔ معاہدے کے تحت دونوں فریق اساتذہ اور طلبہ کے دوطرفہ تبادلے کا پروگرام شروع کریں گے، تعلیمی کریڈٹس کی باہمی منظوری کا نظام قائم کریں گے، چین۔پاکستان فنی مہارتوں کے باقاعدہ مقابلوں کا انعقاد کریں گے، اور چین۔پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت پاکستان میں کام کرنے والے چینی سرمایہ کاری سے چلنے والے اداروں کے لیے مقامی سطح پر ہنر مند افرادی قوت کو تربیت فراہم کریں گے۔چینی یونیورسٹی نمایاں پاکستانی طلبہ کے لیے چین۔پاکستان انٹرنیشنل ایکسچینج اسپیشل اسکالرشپ بھی متعارف کرائے گی۔ پاکستان بھر کی اہل جامعات داؤئی یونیورسٹی الائنس میں بھی شامل ہو سکیں گی، جس کی قیادت چنگ ڈاؤ ہینگ شنگ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کر رہی ہے۔چائنہ اکنامک نیٹ کے مطابق دوسرا معاہدہ ایچ ای سی اور ایجوکیشن ٹیکنالوجی کمپنی جیوشیووانگ گروپ کے درمیان ایک اسٹریٹجک تعاون کا فریم ورک ہے، جس کا محور ایجوکیشن ڈیجیٹلائزیشن اور مصنوعی ذہانت سے معاونت یافتہ چینی زبان کی تعلیم ہے۔ اس کے تحت مرحلہ وار پاکستان کے تقریباً 10 تعلیمی اداروں میں معیاری بین الاقوامی چینی زبان کے تعلیمی مراکز قائم کیے جائیں گے، پاکستان کے لیے قومی سطح کا اسمارٹ ایجوکیشن پبلک سروس پلیٹ فارم مشترکہ طور پر تیار کیا جائے گا، اور عوامی روابط کو فروغ دینے کے لیے چینی زبان، فنی مہارتوں اور سائنالوجی سے متعلق مقابلوں سمیت مختلف سرگرمیوں کا انعقاد کیا جائے گا۔یہ دونوں معاہدے بیجنگ لینگویج اینڈ کلچر یونیورسٹی میں ایچ ای سی کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر کی قیادت میں پاکستانی وفد اور چینی شراکت داروں کے درمیان ہونے والے تفصیلی مذاکرات کے بعد طے پائے۔ ان مذاکرات میں صنعت اور تعلیم کے انضمام، ڈیجیٹل تبدیلی، اور نوجوانوں کے تبادلوں سمیت مختلف شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔چائنہ اکنامک نیٹ کے مطابق یہ معاہدے ایچ ای سی کے وفد کے ایک ہفتہ طویل دورہ چین کے دوران طے پائے، جس میں پاکستان کی ممتاز جامعات کے وائس چانسلرز اور سربراہان بھی شامل تھے۔ وفد نے چائنا ایسوسی ایشن آف ہائر ایجوکیشن اور فودان یونیورسٹی کے حکام سے بھی ملاقاتیں کیں، جو سی پیک کے دوسرے مرحلے میں تعلیم اور انسانی وسائل کی ترقی کی بڑھتی ہوئی اہمیت کی عکاسی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں