نیشنل پروڈکٹویٹی آرگنائزیشن کی خدمات قابل تحصین ہیں،صدر چیمبر آف کامرس

فیصل آباد ( سٹاف رپورٹر)پیداواریت بڑھانے اور پیداواری لاگت میں کمی کیلئے نیشنل پروڈکٹویٹی آرگنائزیشن کی خدمات قابل تحسین ہیں۔یہ بات فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر فاروق یوسف شیخ نے این پی او کے اشتراک سے اہم صنعتوں کیلئے توانائی اور ریسورس کی ترقی بارے آگاہی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ فیصل آباد ٹیکسٹائل سے نکل کر اب ہمہ جہتی صنعتی شہر بن چکا ہے جہاں بیوریج، فوڈ ، آٹو موبائل ، کیمیکل ، فارماسوٹیکل سمیت کئی جدید صنعتیں قائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فیصل آباد کو قومی معیشت میں بھر پور کردار ادا کرنے کا بھی اعزاز حاصل ہے ۔ فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ یہ بزنس کمیونٹی کے مسائل کے علاوہ اس ضلع کے ایک کروڑ شہریوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے بھی کوشا ں ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ چیمبر کے 22ہزار سے زائد ممبران 128مختلف سیکٹرز اور سب سیکٹرز کی نمائندگی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ این پی او۔ سیمینارز اور آگاہی سیشنز کے ذریعے صنعتکاروں کو پیداواری لاگت کم کرنے اور اس حوالے سے جدید عالمی رجحانات بارے بھی آگاہ کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فیصل آباد چیمبر کے مطالبہ پر حکومت نے ایس ایم ای سیکٹر کی مالی حد بڑھا کے 2بلین کر دی ہے اس طرح وزیر اعظم نے بجٹ میں ایس ایم ای کی فنانسنگ کیلئے الگ فنڈز مختص کیے ہیں۔ انہوں نے پیداواریت بڑھانے کے سلسلہ میں کہا کہ پا کستان کی ترقی۔ معاشی استحکام اور برآمدات بڑھانے کیلئے تمام اداروں کا ایک پیج پر ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت 32 مختلف محکمے بزنس کمیونٹی سے ڈیل کرتے ہیں اِن کا بنیادی کام معاشی نظام سے منسلک افراد کیلئے سہولتیں اور آسانیاں پیدا کرنا ہے تاکہ معیشت بہتر ہو اور برآمدات میں اضافہ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت برآمدات کو 30 ارب ڈالر تک بڑھانا چاہتی ہے جبکہ بزنس کمیونٹی اس کو 100ارب تک پہنچا سکتی ہے مگر اِس کیلئے حکومت کو مراعات دینا ہوں گی ۔ اس سے قبل این پی او کے جنرل مینیجر آفتاب خان مسعود نے اس ادارے کی اہمیت بارے بتایا جبکہ فیصل آباد اور فیصل آباد چیمبر بارے دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی۔ آخر میں سینئر نائب صدر نوید اکرم شیخ نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا جبکہ صدر فاروق یوسف شیخ نے آفتاب خاںمسعود کو چیمبر کی اعزازی شیلڈ پیش کی۔ اس موقع پر دیگر شرکا کے علاوہ ڈاکٹر حبیب اسلم گابا بھی موجود تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں