فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) ایف ڈی اے ون ونڈو کائونٹر کے ذریعے گزشتہ چھ ماہ کے دوران مجموعی طور پر 492درخواست گزاروں کو مختلف شعبہ جات میں ریلیف فراہم کیا گیا، جبکہ 40درخواستیں مختلف شعبوں میں زیر کارروائی ہیں۔ یہ بات ڈائریکٹر جنرل ایف ڈی اے محمد آصف چوہدری کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس کے دوران بتائی گئی جس میں ون ونڈو کائونٹر کی کارکردگی، خدمت مرکزاور محکمانہ امور کے بار ے میں دیگر ذرائع سے موصول ہونے والی درخواستو ں پر دفتری کارروائیوں کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف ڈی اے قیصر عباس رند، ڈائریکٹرز جنید حسن منج، اسما محسن، سہیل مقصود پنوں، یاسر اعجاز چٹھہ، افنان سعید سندھو، ڈپٹی ڈائریکٹر آئی ٹی عبداللہ نور اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔ بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ شعبہ اسٹیٹ مینجمنٹ ون سے متعلق 367، شعبہ ٹائون پلاننگ ون کی 40، ٹائون پلاننگ ٹو کی 60اور شعبہ کچی آبادی سے متعلق 25 درخواستیں نمٹائی گئیں۔ جن معاملات میں درخواست گزاروں کو ریلیف فراہم کیا گیا ان میں کمرشل و رہائشی بلڈنگ پلانز کی منظوری، پراپرٹی ٹرانسفر، وراثتی انتقالات، جائیدادوں کی کمرشلائزیشن کی منظوری، اونرشپ کلیئرنس سرٹیفکیٹس، ٹائون پلاننگ رپورٹس، این او سیز کا اجرا، ہائوسنگ سکیموں سے متعلق امور اور دیگر محکمانہ خدمات شامل ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل ایف ڈی اے محمد آصف چوہدری نے ون ونڈو کائونٹر کی مجموعی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ محکمانہ خدمات کے اعلی معیار کو برقرار رکھا جائے اور شہریوں کو فوری ریلیف کی فراہمی کے لیے جدید اصلاحات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سے بھرپور استفادہ کیا جائے۔انہوں نے ہدایت کی کہ شہریوں کو تیز رفتار، شفاف اور معیاری محکمانہ خدمات کی فراہمی کے لیے ون ونڈو کائونٹر کے نظام کو مزید مثر بنایا جائے اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے سروس ڈیلیوری میں مسلسل بہتری لائی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کی درخواستوں پر مقررہ ٹائم لائن کے اندر کارروائی کو ہر صورت یقینی بنائیں اس ضمن میں کسی بھی قسم کی غفلت یا غیر ضروری تاخیر ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف ڈی اے کو شعبہ جاتی کارکردگی کی کڑی مانیٹرنگ جاری رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ تمام دفتری امور کا روزانہ کی بنیاد پر جائزہ لیا جائے، غیر ضروری تاخیر کا فوری تدارک کیا جائے اور غفلت کے مرتکب عملے کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ عوامی اعتماد کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔




