حضور نبی کریم حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی پیاری بیٹی خاتون جنت سیدہ فاطمة الزہرا رضی اﷲ تعالیٰ عنہا آپ کے گھر تشریف لائیں، آپ نے ان کے سر پر بوسہ دیا اور پوچھا کہ کیا حضرت علی کرم اﷲ وجہہ الکریم سے پوچھ کر آئی ہو؟ سیدہ فاطمة الزہرا نے بتایا کہ میں ان سے پوچھ کر نہیں آئی لیکن اگر ان سے پوچھتی تو وہ مجھے یہاں آنے سے منع نہ کرتے، محبوب خدا حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی پیاری بیٹی خاتون جنت سیدہ فاطمة الزہرا رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کو وہیں سے واپس کر دیا اور انہیں پوچھ کر آنے کی تلقین فرمائی، مفسرین کرام لکھتے ہیں کہ دراصل یہ امت کی تعلیم وتربیت کے لیے تھا، یہ واقعہ ہمارے لئے ایک سبق ہے کہ ہم اپنی بیٹیوں کی کس طرح تربیت کریں اور انہیں اپنے خاوند کا فرمانبردار رہنے کا درس دیں، محبوب خدا حضور نبی کریم حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی ایک صحابیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا آپ کے پاس آئیں اور عرض کیا کہ یارسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم میری شادی ہو رہی ہے، میرے خاوند کے مجھے پر کیا حقوق ہیں، آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر تیرے خاوند کے چوٹ لگے اور زخم میں گندہ پانی پیپ پڑ جائے اور تو اپنی زبان سے چاٹ چاٹ کر زخم صاف کرے، تب بھی تو نے اپنے خاوند کے حقوق ادا نہیں کئے، یہ احادیث نبوی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم ہمیںد عوت فکر دے رہی ہیں کہ ہم اپنی بیٹیوں کی کردارسازی پر مکمل توجہ دیں اور ان کی شادی سے قبل انہیں یہ بتائیں کہ عورت پر اس کے خاوند کے حقوق کیا ہیں، عورتوں کو یہ حدیث مبارکہ بھی ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر اﷲ تعالیٰ کے سوا کسی کو سجدہ جائز ہوتا تو عورت کو حکم دیا جاتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کریں’ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کی تعلیم وتربیت پر مکمل توجہ مرکوز رکھیں، ہم اپنے بیٹوں اور اپنی بیٹیوں کی اس طرح کردارسازی کریں کہ وہ کامیاب انسان بن جائیں، ہمیں اپنے بیٹوں کو اپنے ساتھ قبرستان میں فاتحہ خوانی کے لیے بھی لیکر جانا چاہیے، عادتیں نسلوں تک انسانوں کے ساتھ رہتی ہیں اس لئے اپنی اولاد کو اچھی عادتوں کا عادی بنانا بیحد ضروری ہے، اگر میں اپنے بیٹے حافظ محمد شاویز ریاض کو اپنے ساتھ قبرستان لیکر جاتا ہوں تو لازمی بات ہے کہ میرا باپ بھی مجھے قبرستان میں اپنے بزرگوں کی قبروں پر لے جاتا رہا ہے، والدین ہی اولاد کو یہ بھی بتاتے ہیں کہ انہیں کیا بننا ہے اور ایک ٹیچر اپنے ساتھ پیش آنیوالا واقعہ کچھ یوں بیان کرتے ہیں کہ سکول میں پہلی کلاس کا ٹیچر چھٹی پر تھا اور طالب علموں نے شور مچاتے ہوئے آسمان سر پر اٹھا رکھا تھا، ہیڈماسٹر نے مجھے اس کلاس میں بھیجا، چھٹی کا ٹائم ہونے والا تھا اس لئے میں نے بچوں کو پڑھانے کی بجائے انہیں کہا کہ اپنے بستے بند کریں اور آرام سے بیٹھ جائیں اور ہم آپس میں بات چیت کرتے ہیں، میں کرسی پر بیٹھ گیا، اپنی ٹانگیں میز پر رکھ لیں’ بچوں سے کہا کہ اپنا اپنا تعارف کرائو اور بتائو کہ مستقبل میں کیا بننا چاہتے ہو، بچوں نے انجینئر’ ڈاکٹر’ پائلٹ’ سیاستدان’ پروفیسر وغیرہ وغیرہ بننے کی خواہشات کا اظہار کیا مگر ایک بچہ بولا میں صحابی جیسا بننا چاہتا ہوں تو میں چونک اٹھا اور اس سے پوچھا کہ تمہارے دل میں یہ خیال کیسے آیا تو اس بچے نے بتایا کہ میری ماں نے مجھے صحابہ کرام کی صفتیں بتائی ہیں کہ وہ جھوٹ نہیں بولتے تھے اور اس قدر اعلیٰ کردار کے مالک تھے جسے قلمبند نہیں کیا جا سکتا، ذرا سوچئے وہ ماں کیسی عظیم ہو گی جس نے اپنے بچے کو صحابہ کرام کی شان سنا کر اس کے دل میں ان کی عظمت قائم کر دی’ ایک صحابی رسولۖ نے آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا کہ یارسول اﷲۖ مجھ پر ماں باپ میں سے کس کا حق زیادہ ہے، آپۖ نے تین بار ارشاد فرمایا تیری ماں، اور چوتھی بار کہا کہ تیرا باپ، مفسرین کرام اس حدیث نبویۖ کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ ماں کا مقام بلند وبالا ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ اولاد کی تعلیم وتربیت کے لیے اس کی ذمہ داریاں باپ سے تین گنا زیادہ ہے، اﷲ تعالیٰ نے ماں کو باپ سے افضل بنایا، ماں کی گود انسان کی پہلی درسگاہ ہے، حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی کو ان کی والدہ نے ہمیشہ سچ بولنے کی نصیحت کی تھی۔ جب آپ علم حاصل کرنے کے لیے بغداد روانہ ہوئے تو والدہ نے آپ کے کرتے کے اندر 40دینار سی دیے اور فرمایا کہ ہر حال میں سچ بولنا، کبھی جھوٹ نہ بولنا۔ آپ قافلے کے ساتھ جا رہے تھے کہ راستے میں ڈاکوئوں نے قافلے کو لوٹ لیا۔ ایک ڈاکو نے پوچھا کہ تمہارے پاس کیا ہے؟ آپ نے بلا جھجھک بتا دیا کہ میرے پاس 40دینار ہیں۔ ڈاکو سمجھے کہ یہ مذاق کر رہا ہے اور آپ کو اپنے سردار کے پاس لے گئے، ڈاکوئوں کے سردار نے بھی یہی سوال کیا تو آپ نے وہی جواب دیا۔ سردار نے پوچھا کہ اتنی رقم چھپانے کے باوجود تم نے سچ کیوں بولا؟ تو آپ نے فرمایا کہ میری ماں نے مجھ سے سچ بولنے کا عہد لیا تھا، اس لیے میں نے جھوٹ بول کر خیانت کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ یہ سن کر ڈاکو کا دل پسیج گیا، سارا مال واپس کر دیا اور توبہ کر کے راہ راست پر آ گیا، آج ہمیں جو معاشرتی بگاڑ نظر آ رہا ہے؟ اگر اس کا قصور وار والدین کو قرار دیا جائے تو بیجا نہ ہو گا، نوجوان نسل حتیٰ کہ بچوں کے ہاتھوں میں موبائل فون دینے والا کون ہے، بچے موبائل فون دیکھتے ہیں تو روٹی کھاتے ہیں ورنہ ان سے کھانا بھی نہیں کھایا جاتا اور ستم بالائے ستم یہ کہ والدین اپنی ذمہ داریاں احسن طریقہ سے ادا کرنیکی بجائے سوشل میڈیا کو معاشرتی بگاڑ کا باعث قرار دیتے ہیں، سوچنے کی بات یہ ہے کہ والدین اپنے بچوں کی کردارسازی میں کیا کردار ادا کر رہے ہیں، اولاد کی بہترین تربیت والدین کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے، جس میں بچوں کو اچھے اخلاق’ سچائی اور دینی اقدار سکھانا شامل ہے، انہیں سچ بولنا’ بڑوں کا احترام اور چھوٹوں پر شفقت کرنا سکھائیں، بچے وہی سیکھتے ہیں جو وہ اپنے والدین کو کرتے دیکھتے ہیں اس لئے اعلیٰ اخلاقی اقدار پر عمل پیرا ہونا اپنا شیوہ بنائیں، اپنے بچوں کی تعلیم وتربیت کے لیے وقت نکالیں، ان کے ساتھ مل بیٹھیں اور مکمل توجہ سے ان کی تربیت کریں ورنہ یہ کہا جائے تو بیجا نہ ہو گا کہ معاشرتی بگاڑ کے اصل قصوروار والدین ہیں۔




