آپ کا نام علی،والد کا نام عثمان،کنیت ابو الحسن اور لقب داتا صاحب اور داتا گنج بخش معروف ہے۔آپ ہاشمی سید ہیں اورآپ کا سلسلہ نسب آٹھویں پشت میں سیدنا علی المرتضیٰ سے جاملتا ہے۔ آپ کی والدہ ماجدہ حسینی سادات سے تھیں۔ عابدہ، زاہدہ اور خوددارسیدہ خاتون تھیں۔ آپ نجیب الطرفین سید تھے۔ متقی و متواع والدین کی آغوش میں پرورش پاکر آپ نے کیا کچھ حاصل کیا ہوگا۔ اس کا اندازہ آپ کے مقام عالیہ سے لگایاجاسکتا ہے۔ اس وقت غزنی علماء وفضلا کامرکز تھا اور شہر میں کئی مدارس قائم تھے۔ جو علوم قرآنی کے فروغ کے لیے خدمات سرانجام دے رہے تھے۔ آپ نے تحصیل علوم دینیہ کرنے کے بعد تزکیہ نفس کی خاطر بہت زیادہ مجاہدات کیے۔ آپ نے اپنے مرشد حضرت ابو الفضل محمد بن حسن ختلی کے علاوہ بہت سے مشائخ سے فیض صحبت کا شرف حاصل کیا۔ جن میں ابو سعید ابو الخیر اور رسالہ قیشریہ کے مصنف امام ابو القاسم قشیری شامل ہیں۔ حضرت علی بن عثمان ہجویری سلطان مسعود بن محمود غزنوی کے آخری دور حکومت میں اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ مختلف ممالک کا سفر کرتے ہوئے لاہور تشریف لائے۔ اور اس جگہ قیام کیا جہاں آپ کا مزار مبارک زیارت گاہ خاص و عام ہے۔ فوائد الفواد میں ہمیں آپ کے لاہور تشریف لانے کی تفصیل ملتی ہے۔ حضرت نظام الدین اولیا محبوب الٰہی فرماتے ہیں۔ شیخ حسین زنجانی اور شیخ علی ہجویری دونوں ایک ہی پیر کے مرید تھے۔ اور ان کے پیر اپنے عہد کے قطب تھے۔حضرت حسین زنجانی عرصہ سے لاہور میں مقیم تھے۔ کچھ دنوں کے بعد ان کے پیر صاحب نے حضرت علی ہجویری سے فرمایا کہ لاہور میں جا کر قیام کرو۔ شیخ علی ہجویری نے کہا کہ وہاں حسین زنجانی موجود ہیں۔ لیکن ان کے پیر صاحب نے فرمایا کہ تم لاہور جائو جب داتا علی ہجویری اپنے مرشد کے حکم کی تعمیل میں لاہور آئے تو رات تھی۔ صبح کو حسین زنجانی کا جنازہ باہر لایا گیا۔ یہاں آپ نے ایک مسجد بنوائی۔ جسے تبلیغ دین کا مرکز بنایا۔ حضرت علی ہجویری لاہور میں دن کے وقت تعلیم دیتے اور رات کو طالبان حق کو ہدایت کیا کرتے۔ ان کی رہبری میں ہزاروں جاہل عالم بن گئے۔ کافروں نے اسلام قبول کیا۔ گمراہوں نے ہدایت کی راہ پائی۔ دیوانے ہوش مند ہو گئے۔ جن کا علم ناقص تھا کامل ہو گئے۔ فاسق و فاجر پارسا بن گئے۔ آپ کی اپنی تحریر سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگ آپ کو آپ کی زندگی میں ہی گنج بخش کے لقب سے پکارنا شروع ہو گئے تھے۔ کشف الاسرار میں آپ تحریر فرماتے ہیں۔ اے علی۔ لوگ تجھے گنج بخش کہتے ہیں۔ حالانکہ تو خود محتاج ہے۔ اور تیرے پاس تو ایک دانہ تک نہیں تو اس پر فخر نہ کر گنج بخش ورنج بخش خدا تعالیٰ کی ذات ہے۔ لیکن گنج بخش کے لقب کی وجہ سے شہرت جو ہر ایک کی زبان پر اور ہر تذکرہ میں موجود ہے۔ وہ یہ ہے کہ سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتی آپ کے مزار پر انوار پر حاضر ہوئے۔ اور ایک حجرہ میں 40دن تک مصروف عبادت و ریاضت رہے۔اس عرصہ میں حضرت داتا گنج بخش کی روح پرفتوح سے کیا فیض حاصل ہوا۔کتنے مقامات طے ہوئے۔ ان کے بحر سخاوت سے کس قدر سیراب ہوئے۔ اس کا اندازہ آپ کے اس خراج عقیدت سے لگایاجاسکتا ہے۔جوبوقت رخصت ایک شعر کی شکل میں آپ کی زبان حق ترجمان سے جاری ہوا
گنج بخش فیض عالم مظہر نور خدا
ناقصاں را پیر کامل کاملاں را رہنما
ایک مردحق کی زبان سے نکلا ہوا کلمہ زبان زد عام و خاص ہو گیا۔ اور آپ گنج بخش فیض عالم کے لقب سے مشہور ہوئے۔ حضرت داتا گنج بخش بلندپایہ عالم اور جامع معقول و منقول تھے۔ آپ نے متعدد عنوانات پر تصانیف لکھیں۔ لیکن افسوس کہ ان میں سے کشف المحجوب کے علاوہ کوئی کتاب نہیں ملتی۔ چند اوراق کاچھوٹا رسالہ کشف الاسرار بھی آپ کی تصنیف ہے اور شائع ہو چکا ہے۔ حضرت نظام الدین محبوب الٰہی فرماتے ہیں کشف المحجوب حضرت علی ہجویری کی تصنیف ہے۔ اگر کسی کاپیرنہ ہو تو جب اس کتاب کا مطالعہ کرے گا۔ تو یہ کتاب اس کے پیر کا کام دے گی۔ میں نے اس کتاب کا مطالعہ کیاہے۔ حضرت علی ہجویری کی بہت سی تصانیف ہیں لیکن کشف المحجوب مشہور و معروف ہے۔یہ کتاب راہروان طریقت کے لیے مرشد کامل ہے۔ تصوف کی کتابوں میں فارسی زبان میں اس خوبی کی کوئی دوسری تصنیف نہیں ملتی۔ بلاشبہ یہ کتاب حکمت و دانائی کا انمول خزینہ ہے۔ ذیل میں کشف المحجوب سے چند اقتباسات پیش خدمت ہیں۔ (1)رضا کی دو قسمیں ہیں۔خدا کا بندے سے راضی ہونا۔ اور بندے کا خدا سے راضی ہونا۔ (2)سارے ملک کا بگاڑ ان تین گروہوں کے بگڑنے پر ہے۔ حکمران جب بے علم ہو۔علما جب بے عمل ہوں۔اور فقیر جب بے توکل ہوں۔(3)آپ نے تین قسم کے لوگوں سے دور رہنے کی تلقین فرمائی۔ غافل علما سے جنہوں نے دنیا کو اپنے دل کا قبلہ بنا لیا ہو۔ریاکار فقیر سے۔ جوفقط اغراض نفسانی کے لیے لوگوں سے جاہ و عزت کی تمنا رکھتا ہو۔ اور جاہل صوفی سے جس نے نہ تو کسی مرشد کی صحبت میں رہ کر تربیت پائی ہو۔ اور نہ ہی کسی استاد سے ادب سیکھا ہو۔ آپ کے نزدیک خاموشی کے آداب یہ ہیں کہ خاموشی اختیار کرنے والا جاہل نہ ہو۔ اور جہالت پر مطمئن نہ ہو۔ اور غفلت میں مبتلا نہ ہو۔ (4)بوڑھوں کو چاہیے کہ وہ جوانوں کا پاس خاطر کریں۔کیونکہ ان کے گناہ بہت کم ہیں اور جوانواں کو چاہیے کہ بوڑھوں کا احترام کریں کیونکہ وہ ان سے زیادہ عابد اور تجربہ کار ہیں۔(5)صوفی وہ ہے۔ جس کے ایک ہاتھ میں قرآن اور دوسرے ہاتھ میں سنت رسول ۖ ہو(6) جس کام میں نفسانی اغراض آجائے اس سے برکت اٹھ جاتی ہے۔ (7)فقر کی معرفت تعلیم اور پہچان کے لیے سیر دنیا سے بہتر کوئی ذریعہ نہیں۔(8)دنیا کے ساتھی (ہاتھ، پائوں، آنکھیں)جو بظاہر دوست نظر آتے ہیں دراصل یہ تیرے دشمن ہیں۔(9)دس چیزیں 10 چیزوں کو کھا جاتی ہیں۔تو بہ گناہ کو،جھوٹ رزق کو،غیبت نیک اعمال کو،غم عمر کو،صدقہ بلائوں کو،غصہ عقل کو،پشیمانی سخاوت کو، یعنی دے کر بعد میں پچھتانا تکبر علم کو، نیکی بدی کو،عدل ظلم کو،نفس کی مخالفت سب مجاھدوں کا اصل کمال ہے۔(10) علم سے بے پرواہی اختیار کرنا محض کفر ہے(11) بھیدکونہ کھول اور نماز کو نہ بھول(12) فقیرکو چاہیے کہ بادشاہوں کی ملاقات کوسانپ اور اژدھے کی ملاقات کے برابر سمجھے خصوصاً جب ملاقات اپنے نفس کے لیے ہو۔(13) دین و شریعت کے پابند لوگوں کو خواہ وہ نادار اور غریب کیوں نہ ہوں بہ چشم حقارت نہ دیکھ کیونکہ اس سے خدا کی حقارت لازم آتی ہے(14) مال کی محبت کو عذاب سمجھ کر فاقہ کشوں اور مستحقوں پر لٹاتے رہو۔سب کچھ اس دن سے پہلے کر جب قبر میں تجھے کیڑے کھا جائیں۔(15) عارف عالم بھی ہوتا ہے مگر ضروری نہیں کہ عالم بھی عارف ہو(16) بندے کے لیے سب چیزوں سے زیادہ مشکل خدا کی پہچان ہے۔(17)کرامت ولی کی صداقت ہوتی ہے۔اور اس کا ظہور چھوٹے انسان سے نہیں ہو سکتا(18) غافل امرا۔کاہل (سست) فقیر اور جاہل درویشوں کی صحبت سے پرہیز کرنا عبادت ہے۔(19) بھوک کو بڑا شرف حاصل ہے اور تمام امتوں اور مذہبوں میں پسندیدہ ہے۔ اس لیے بھوکے کا دل ذکی(ذہین) ہوتا ہے۔طبیعت مہذب ہوتی ہے اور تندرستی میں اضافہ ہوتا ہے اور اگر کوئی شخص کھانے کے ساتھ ساتھ پانی پینے میں بھی کمی کر دے تو وہ ریاضت میں اپنے آپ کو بہت زیادہ آراستہ کر لیتا ہے۔ (20) دین دار لوگوں کو خواہ وہ کیسے ہی غریب و نادار ہوں۔ چشم وحقارت سے نہ دیکھو۔(21) فقیردرویش وہ ہے۔کہ اس کے پاس کچھ نہ ہو۔ اور کوئی چیز اسے خلل انداز نہ کرے۔ نہ وہ دنیاوی اسباب کی موجودگی سے غنی ہو۔ اور نہ اس کے نہ ہونے سے محتاج ہو۔(22) جو علم کو دنیاوی عزت اور وجاہت کے لیے حاصل کرتا ہے۔درحقیقت وہ عالم کہلانے کا مستحق نہیں کیونکہ دنیاوی عزت وجاہ کی خواہش کرنا بجائے خود جہالت ہے۔(23) طالب حق کو چاہیے کہ اللہ کے مشاہدے میں عمل کرے۔مطلب یہ کہ بندہ (یہ) اعتقاد رکھے کہ اس کا ہر عمل اللہ کے علم میں ہے۔ وہ اس کے اعمال کو ملاحظہ فرمارہاہے۔(24) ایک جگہ فرماتے ہیں۔جب تک بندہ اس دنیا میں نفس اورخواہشات نفس کے چنگل سے نہیں نکلتا۔معرفت سے سرفراز نہیں ہو سکتا۔ فرماتے ہیں۔نفس کی مخالفت تمام عبادتوں کا سرچشمہ ہے۔ نفس کو نہ پہچاننا اپنے آپ کو نہ پہنچاننا ہے۔ جو شخص اپنے آپ کو نہیں پہچانتا۔وہ خدا کو نہیں پہچان سکتا۔ نفس کافنا ہو جانا حق کی بقا کی علامت اور نفس کی پیروی حق کی مخالفت ہے۔ نفس پر جبر کرنا یعنی نفسانی خواہشات کو روکنا جہاد اکبر ہے۔ موجودہ دور میں حضرت داتا گنج بخش علی بن عثمان ہجویری کے ان فرمودات پر عمل پیرا ہو کر دائمی کامیابی سمیٹی جا سکتی ہیں۔




