محدود وسائل کن ترجیحات پر خرچ کیے جا رہے ہیں

لاہور(بیوروچیف)پاکستان پیپلزپارٹی کے پولیٹیکل کوآرڈینیٹر سنٹرل پنجاب چوہدری میمون حسین نے کہا کہ پنجاب کا 2026-27کا مجموعی بجٹ تقریبا 5.9ٹریلین رو پے ہے، لیکن ترقیاتی بجٹ کو گزشتہ سال کے تقریبا 1.24ٹریلین روپے سے کم کرکے 752ارب روپے کردیا گیا ہے۔ حکومت کو عوام کو جواب دینا ہوگا کہ محدود ترقیاتی وسائل کن ترجیحا ت پر خرچ کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہایک طرف پنجاب پولیس میں نفری کی کمی موجود ہے، دوسری طرف حکومت مختلف نئی فورسز اور ادارے تشکیل دے رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہر انتظامی ناکامی کا حل ایک نیا محکمہ یا فورس بنانا ہے؟ پولیس کی موجودہ استعداد مکمل کیے بغیر متوازی ڈھانچے کھڑے کرنا صوبائی خزانے پر اضافی بوجھ نہیں تو اور کیا ہے؟چوہدری میمون حسین نے کہا کہ شہری مسائل کے حل کے لیے بلدیاتی اداروں کو حقیقی اختیارات اور وسائل دینے کے بجائے اختیارات کو مرکزی سطح پر رکھا جا رہا ہے۔ اگر صفائی، تجاوزات، سڑکوں، نکاسی آب اور دیگر بنیادی شہری مسائل مقامی سطح پر حل ہونے ہیں تو TMA اور بلدیاتی اداروں کو بااختیار کیوں نہیں کیا جاتا؟انہوں نے کہا کہ پنجاب کے بڑے شہروں میں عوام کو صاف پانی، سیوریج، صفائی، بہتر سڑکوں اور موثر پولیسنگ کی ضرورت ہے۔ حکومت فیصل آباد اور گوجرانوالہ کے ماس ٹرانزٹ منصوبوں کے لیے اربوں روپے مختص کر رہی ہے، جبکہ لاہور میٹرو فنڈز نا ہونے پر بند ہو رہی ہے ۔بجٹ دستاویز کے مطابق ان منصوبوں کے لیے آئندہ مالی سال میں 26.6 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔چوہدری میمون حسین نے کہا کہ ترقی صرف تختیاں لگانے، منصوبوں کے اعلانات اور اشتہارات کا نام نہیں؛ ترقی وہ ہے جو عام آدمی کو اپنے گھر، گلی اور محلے میں نظر آئے۔انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے مطالبہ کیا کہ نئی نئی فورسز اور محکمے بنانے کے بجائے پہلے موجودہ اداروں کی استعداد بڑھائی جائے، پنجاب پولیس کی نفری کی کمی پوری کی جائے، بلدیاتی اداروں کو حقیقی مالی و انتظامی اختیارات دیے جائیں اور عوام کے پیسے کو نمائشی منصوبوں کے بجائے بنیادی ضروریات پر خرچ کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں