موجوں کی تپش کیا ہے فقط ذوقِ طلب ہے
پنہاں جو صدف میں ہے وہ دولت ہے خدا داد
تعمیرِ ذات کا کٹھن مگر کیف انگیز سفرتکمیلِ ذات پر ختم نہیں ہوتا بلکہ یہ بیکراں ہو کر تشکیلِ ملت کے مرحلے میںداخل ہو جاتا ہے جہاں سے بے ریا و پر خلوص جہد کا ایسا نقرئی سفر شروع ہو تا ہے جس کی روشنی آئندہ کئی نسلوں کے راستے متعین و منور کرتی ہے بالکل اسی طرح جیسے جامعہ کراچی سے 1973 میں فارغ التحصیل شعبہ کیمسٹری کے طلبہ کی المنائی (سابق طلبہ کی تنظیم) کا اپنے شعبے کی تعمیر و ترقی کے لئے فقید المثال کردار۔جامعہ کراچی سے فارغ ہو کر یہ طلبہ اعلی تعلیم کے سفر پر مغربی ممالک کو روانہ ہو گئے۔تکمیلِ تعلیم کے بعداور حصول رزق کے رشک آمیز سفر میں انہوں نے اپنی مادرِ علمی کی ترقی کے لئے وہ شاندار کوششیں کیں جن کا خلاصہ ہی روح کو گرما دیتا ہے۔یہ صرف ایک بیچ کی کہانی نہیں،یہ ایک عہد کی گواہی ہے۔یہ ان نوجوانوں کا قصہ ہے جو سن 1969 میں کراچی یونیورسٹی کے کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ میں داخل ہوئے۔ ہاتھوں میں کتابیں تھیں،آنکھوں میں خواب اور دلوں میں تحصیل ِعلم کا عزم۔ یہ طلبہ محض ڈگری کے طالب نہیں تھے،یہ کھیل کے میدانوں میں بھی نمایاں تھے،بحث و مباحثے کے مقابلوں میں بھی اول۔شعبہ کیمسٹری کے اس بیچ کے پرعزم طلبہ زندگی کو بھرپور انداز میں جینے کا ہنر بھی جانتے تھے۔ وقت گزرتا گیا اس بیچ کے تقریباً 120طلبہ و طالبات نے ایم ایس سی کیا۔ان میں سے 30سے زیادہ افراد نے پی ایچ ڈی کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔ زیادہ تر طلبہ نے پی ایچ ڈی امریکہ،کینیڈا، برطانیہ اور دیگر ترقی یافتہ ملکوں سے کی۔پاس آئوٹ ہونے والے تقریباً 15طلبہ کو کراچی یونیورسٹی کے کیمسٹری اور فارمیسی ڈیپارٹمنٹ میں لیکچرار اور ایچ ای سی انسٹیوٹ آف کیمسٹری میں ریسرچر تعینات کر دیا گیا۔ 1973 المنائی کے طلبہ و طالبات کوجب اپنے خوابوں کی تعبیر مل گئی توانہوں نے اپنی مادرِ علمی کی خدمت کو اپنا مشن بنا لیا۔آئیے ذرا دیکھیں کہ 1973 المنائی نے اپنے اس مشن کی راہ میں آنیوالے سنگ ِ میل کیسے طے کیے؟۔2023 میں 1973المنائی نے اپنی گولڈن جو بلی بھرپور انداز میں منائی۔ مختلف تقریبات اور ایونٹس اس کا حصہ تھے۔ اس موقع پر ایک خوبصورت میگزین کا اجرا ء بھی کیا گیا جس میں 1973 کے بیچ کے طلبہ و طالبات کی مختصر سوانح اور ان کی بھرپور جدوجہد کا احاطہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ گفتگو کا ایک سیشن کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ کے آڈیٹوریم میں ہوا۔اس موقع پر خصوصی طور پر تیار کردہ تین ڈاکومنٹریز دکھائی گئیں۔ پہلی ڈاکومنٹری کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ کی تاریخ،دوسری ڈاکومنٹری ہمارے اساتذہ ہمارے مہمان،تیسری ڈاکومنٹری رفتگانِ با صفا یعنی وفات پانے والے کلاس فیلوز کی یاد میں۔ شام کو آرٹس کونسل میں پیرزادہ قاسم کی صدارت میں ایک مشاعرہ ہوا اور اس کے بعد محفل ِ سما ع کا اہتمام کیا گیا۔1973المنائی نے کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ کی لیب کے لیے جدید انسٹرومنٹس اور کیمیکلز کی فراہمی کا انتظام بھی کیا۔یہی نہیں ڈیپارٹمنٹ کی لائبریری میں درجنوں کتابوں کا اضافہ کیاگیا۔ڈیپارٹمنٹ کے ایڈمنسٹریشن بلاک کی تزئین و آرائش اور اس میں طلبہ و اساتذہ کے لیے سہولتوں کا اضافہ کیا گیا۔ طلبہ کو صاف اور ٹھنڈے پانی کی فراہمی ایک مسئلہ تھا۔ 24گھنٹے پینے کے صاف پانی کی مسلسل فراہمی کے لیے ایک ہائی ٹیک واٹر کولر کی تنصیب کی گئی۔ 1973 المنائی میں مستحق طلبہ کے لیے زکو فنڈ قائم کیا تاکہ ان کی فیسوں کی مسلسل ادائیگی ہو سکے۔گولڈن جوبلی کی دوسری تقریب 8ستمبر 2024کو کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ میں ہوئی ممتاز کیمسٹیرین ڈاکٹر التفات حسن امریکہ سے اور بحرین یونیورسٹی سے وابستہ پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم اختر طلبہ سے خطاب کرنے کیلئے خصوصی طور پر بحرین سے تشریف لائے۔۔ 28اپریل 2025ء کو 1973 المنائی کے زیر اہتمام تقریب سپاس کا انعقاد کیا گیا ۔ ڈیپارٹمنٹ کی تاریخ میں پہلی بار ایم فل اور پی ایچ ڈی کے طلبہ کے لیے میرٹ اسکالرشپس کا اجرا ہوا۔ 1973المنائی نے طلبہ و طالبات کے لیے لیکچرز ،سیمینارز اور پینل ڈسکشن کا انعقاد بھی کیا کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ کے تعاون سے طلبہ و طالبات کے ساتھ اگست2025میں جشن آزادی کا انعقاد کیا گیا نو اپریل2025 میں یونیورسٹی روڈ پر پانی کی واٹر لائن پھٹنے کے سبب کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ کے بیسمنٹ میں پانی بھر گیا۔1973 المنائی نے پانی کی نکاسی اور تمام کام کی بحالی کے لیے خاموشی سے اہم کردار ادا کیا۔ 5اگست 2025کو وائس چانسلر آفس میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی کی صدار ت میں 1973 المنائی کے ساتھ ایم او یو پر دستخط ہوئے اس کا مقصد کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ کے کچھ حصوں کی ری ویمپنگ یعنی ازسرِ نو تعمیر اور جدید خطوط پر بہتری کے عمل کو آگے بڑھانا تھا۔ پھر آیا وہ دن جس کا سب کو انتظار تھا۔9ستمبر 2025 کوجامعہ کراچی کے کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ میں ایک بڑے تعمیراتی منصوبے کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ اس منصوبے کو ایک بامعنی نام دیا گیا۔ عز مِ عالی شان۔ ایک ایسا عزم جو صرف ماضی کی یادوں تک محدود نہیں تھا بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل سے بھی وابستہ تھا۔ کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ کے دونوں اہم بلاکس ایڈمن بلاک اور سینٹرل بلاک کی ازسرنو مرمت اور بحالی کا کام شروع کیا گیا۔اور پھر وہ مرحلہ آیا جس کا براہ راست تعلق طلبہ اور ان کی عملی تعلیم سے تھا۔ دو وسیع و عریض لیباٹریز کے لیے جدید ترین لیبارٹری آلات اور فرنیچر چین سے درآمد کیے گئے۔ یہ صرف نئی لیبارٹریز نہیں ہیںبلکہ یہ نئی سہولیات ،نئے امکانات اور نئی امیدوں کے دروازے ہیں ۔ان آرگینک کیمسٹری لیبز کو 1973 المنائی کے ساتھی شاہد احمد کے نام سے منسوب کیا گیا ہے جبکہ اینالٹیکل کیمسٹری لیب کو ان کی شریک ِحیات مرحومہ مریم کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔ آج خواب کی تعبیر ہمارے سامنے ہے ۔آج طلبہ و طالبات بہت خوش ہیں۔1973 المنائی نے اپنا وعدہ وفا کر دیا۔ اب ان جدید لیبارٹریز میں ہونے والا ہر تجربہ، ہر تحقیق اور ہر کامیابی اس عزم کی گواہی دے گی کہ جب علم حاصل کرنے والے اپنے علمی درسگاہ کو کچھ واپس دینے کا فیصلہ کریں تو یہ خواب حقیقت بن سکتا ہے۔بلا شبہ ، علم سے خدمت، خدمت سے عظمت ، یہی ہے 1973 المنائی کی خدمت ِبے ریا کی داستانِ مختصر۔یہی ہے عزم عالی شان ۔
نا برد رنج، گنج میسر نمی شود
مزد آن گرفت جاں برادرکہ کار کرد(شیخ سعدی)




