فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) NGOS نیٹ ورک کے سینئر وائس پریذیڈنٹ محمد سلیم چوہدری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وطن عزیز پاکستان کے تیسرے بڑے شہر فیصل آباد کے پوش علاقہ ڈی گرائونڈ پیپلزکالونی کے اردگرد ”گرین بیلٹ” تعمیر کی گئی ہے جو سرسبز وشادابی’ کش گرین گھاس اور فینسی پھولدار پودوں کی بدولت شہریوں کی ایک کثیر تعداد کیلئے صاف وشفا وتازا ہوا’ پرفضا’ پرسکون اور خوشگوار ماحول مہیا کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ صحت عامہ کو برقرار رکھنے کے لیے اوپن جم اور بچوں کے جسمانی وذہنی نشوونما کیلئے پینگیں اور جھولے لگائے گئے ہیں۔ بوڑھوں اور خواتین کے بیٹھنے کیلئے آرام دہ بینچز رکھے گئے ہیں۔ چہل قدمی کیلئے واکنگ ٹریک بنایا گیا ہے۔ روشنی کیلئے جدید لائٹس کے انتظامات کئے گئے ہیں۔ فطرت کے نظاروں’ صحت افزاء مقام اور انسان دوست ماحول سے لطف اندوز ہونے’ ذہنی مفکرات والجھنوں سے چھٹکارا پانے اور صحت مند تفریح کے حصول کیلئے صبح وشام مردوں’ خواتین’ بچوں اور بوڑھوں کی بڑی تعداد ڈی گرائونڈ پارک کا باقاعدگی سے وزٹ کرتی ہے۔ عوام میں کتب بینی اور حالات حاضرہ سے ہم آہنگ ہونے کے جذبہ کے فروغ کیلئے جدوید دور کے تقاضوں کے مطابق ای لائبریری قائم کی گئی ہے جس سے طلباء وطالبات بھرپور استفادہ کر رہے ہیں۔ زندگی کے مختلف شعبہ ہائے سے تعلق رکھنے والے شہریوں کی نمائندگی کرتے ہوئے ہر دلعزیز کاروباری شخصیت الحاج محمد یوسف خاں’ ممتاز مذہبی سکالر قاری محمد بشیر’ نمل یونیورسٹی کی طلباء تنظیم CSR کے سابق صدر حنان عزیز رامے’ دبنگ ونڈر سیاستدان سابق میونسپل کونسلر میاں زاہد فاروق’ کالج سٹوڈنٹس لیڈر ریحان عزیز نے ڈی گرائونڈ پیپلزکالونی کے مسائل کا احاطہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ چند سالوں سے پارکس اینڈ ہارٹی کلچر اتھارٹی اور فیصل آباد ویسٹ مینجمنٹ اینڈ سنیٹیشن ایجنسی کی عدم توجہ اور غفلت سے گرین بیلٹ درختوں’ پودوں اور سبز گھاس سے محروم ہو رہی ہے۔ سبز وشاداب گھاس اور خوبصورت پوردوں کی بجائے کوڑا کرکٹ اور ملبے کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔ یہ ناگفتہ بہ حالت گرین بیلٹ کے تصور پر ایک بدنما دھبہ ہے۔ برساتی ڈرین کے اوپر تعمیر کردہ فٹ پاتھ پر پھول فروشوں نے قبضہ کیا ہوا ہے۔ ریڑھیوں کے عقب گرین بیلٹ پر بوسیدہ ریفریجٹرز فرنیچر اور جھاڑیوں کے بنڈل بکھرے پڑے ہیں۔ ڈی گرائونڈ کے مغرب میں عوام کی سہولت کے لیے لیٹرین تعمیر کی گئی ہیں جن کا ویسٹ سیوریج کی بجائے برساتی نالے میں ڈالا گیا ہے جو تعفن’ مچھروں کی افزائش اور ماحولیاتی آلودگی کا ذریعہ بنا ہوا ہے۔ واکنگ ٹریک لائن کے مشرق میں بڑے سائز کے خشک درخت ایک دوسرے کے سہارے کھڑے ہیں جو کسی بھی وقت مہلک حادثے کا موجب بن سکتے ہیں۔ شہریوں کی حس جمالیات کی تسکین کیلئے گرین بیلٹ میں مزید فینسی درخت وخوبصورت پودے’ سرسبز ونرم گھاس اور دیدہ زیب جدید لائٹس لگائی جائیں۔ بیت الخلاء کا ویسٹ سیوریج لائن میں ڈالا جائے۔ ڈی گرائونڈ پارک کو مزید خوبصورت بنانے کیلئے پودوں کی باقاعدگی سے تراش خراش اور مناسب دیکھ بھال کی جائے۔ شہریوں کو محفوظ چہل قدمی’ صحت مند سرگرمیوں ودیگر سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے واکنگ ٹریک ڈی گرائونڈ پارک کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے۔ صاف ستھرا’ خوشگوار’ انسان دوست’ پرفضا دلکش’ دلفریب’ جاذب نظر’ مسحورکن ماحول کی فراہمی کے لیے ایک منظم’ مربوط اور موثر منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔ پھول مارکیٹ کو کسی مناسب جگہ شفٹ کئے بغیر گرین بیلٹ کی خوبصورتی کو دائمی طور پر بحال رکھنا ناممکن ہے۔




