پاکستان اور سعودی عرب کے مضبوط تعلقات قیمتی اثاثہ ہیں (اداریہ)

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان برادرانہ تعلقات مذہبی وابستگی’ مشترکہ اقدار’ باہمی اعتماد اور دیرینہ تعاون پر استوار ہیں۔ دونوں ممالک نے ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے اور مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دے کر ان تعلقات کو مزید مضبوط بنایا ہے۔ وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف کا یہ موقف کہ سعودی عرب کے اپنے دفاع کے حق کی مکمل حمایت کرتے ہیں، پاکستان کی دیرینہ خارجہ پالیسی اور برادرانہ اسلامی ملک کے ساتھ یکجہتی کا عکاس ہے۔ سعودی عرب کو درپیش سکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں پاکستان کی جانب سے اس کے دفاع کے حق کی حمایت خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ سعودی عرب کو مسلم دنیا میں ایک نمایاں مقام حاصل ہے۔ حرمین شریفین کی سرزمین ہونے کے باعث پاکستان کے عوام کے دلوں میں سعودی عرب کے لیے خصوصی عقیدت اور احترام پایا جاتا ہے۔ دونوں ممالک کے تعلقات محض سفارتی روابط تک محدود نہیں بلکہ عوامی سطح پر بھی گہری محبت اور اعتماد کی بنیاد رکھتے ہیں۔ لاکھوں پاکستانی سعودی عرب میں روزگار حاصل کر کے اپنے خاندانوں کی کفالت کرتے ہیں اور ملکی معیشت میں ترسیلات زر کے ذریعے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی طرح سعودی عرب نے مختلف ادوار میں پاکستان کے ساتھ اقتصادی تعاون اور سرمایہ کاری کے ذریعے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری’ علاقائی سالمیت اور سلامتی کے تحفظ کے لیے اپنے غیر متزلزل عزم پر قائم ہے اور مکہ ڈیفنس معاہدے کے تحت سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔ مکہ امن معاہدہ خطے میں امن’ اتحاد اور استحکام کے قیام کے لیے ایک تاریخی سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے پاکستان سعودی عرب کے اپنے دفاع کے جائز حق کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ موجودہ حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ پاکستان اور سعودی عرب اپنے دیرینہ تعلقات کو مزید مضبوط بنائیں اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے خطے میں امن واستحکام کے فروغ کے لیے کام کریں۔ سعودی عرب کے دفاع کے حق کی حمایت کے ساتھ شہریوں کے تحفظ’ علاقائی سلامتی اور مذاکرات کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا جانا چاہیے۔ پاکستان کا بہترین کردار یہی ہو گا کہ وہ اپنے برادر ملک کے ساتھ کھڑا رہے۔ قومی مفادات کا تحفظ کرے اور کشیدگی میں کمی کے لیے مثبت سفارتی اقدامات جاری رکھے بلاشبہ پاکستان اور سعودی عرب کے مضبوط تعلقات دونوں ممالک کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ہیں۔ ان تعلقات کو محض بیانات تک محدود رکھنے کے بجائے دفاع’ معیشت’ تجارت اور سفارت کاری میں ٹھوس پیش رفت کے ذریعے نئی بلندیوں تک پہنچانا چاہیے۔ وزیراعظم شہباز شریف کا اصولی موقف اسی وقت زیادہ مؤثر ثابت ہو گا جب اسے امن’ باہمی احترام اور عملی تعاون کے فروغ سے مربوط کیا جائے۔ یہی راستہ دونوں برادر ممالک کے مفادات کے تحفظ اور پورے خطے میں پائیدار امن کے قیام میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں