ٹوبہ ٹیک سنگھ (نامہ نگار) فاطمہ فرٹیلائزر کے زیر اہتمام سرسبز گندم آگاہی سیمینار میں زرعی ماہرین نے کہا ہے کہ متوازن کھادوں کے بروقت استعمال، جڑی بوٹیوں کے تدارک اور جدید زرعی طریقوں کو اپنانے سے گندم کی فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔نجی شادی ہال میں منعقدہ سیمینار میں ٹوبہ ٹیک سنگھ سمیت دیگر اضلاع سے تعلق رکھنے والے کاشتکاروں نے شرکت کی۔ مقررین نے بتایا کہ پاکستان میں گندم کی اوسط فی ایکڑ پیداوار تقریبا 33 سے 35 من ہے، جبکہ بعض ترقی پسند کاشتکار جدید طریقہ کاشت اور متوازن کھادوں کے استعمال سے 60 سے 70 من فی ایکڑ تک پیداوار حاصل کر رہے ہیں۔فاطمہ فرٹیلائزر کے ڈویلپمنٹ منیجر نارتھ عمران حمید نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیاں زرعی پیداوار کو متاثر کر رہی ہیں، اس لیے کاشتکاروں کو بدلتے موسمی حالات کے مطابق زرعی حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔ ان کے مطابق جڑی بوٹیوں کی بروقت تلفی نہ ہونے سے گندم کی پیداوار میں 14 سے 40 فیصد تک نقصان ہو سکتا ہے، جبکہ کھادوں کے متوازن استعمال سے فی ایکڑ پیداوار میں 12 سے 15 من تک اضافہ ممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ کمپنی کاشتکاروں کو جدید زرعی ٹیکنالوجی سے آگاہ کرنے کے ساتھ زمین اور پانی کے مفت تجزیے کی سہولت بھی فراہم کر رہی ہے۔ اس موقع پر سرسبز موبائل ایپ متعارف کرواتے ہوئے کاشتکاروں کو اس پر رجسٹریشن اور دستیاب سہولیات سے استفادہ کرنے کی ترغیب دی گئی۔فاطمہ فرٹیلائزر کے ریجنل سیلز منیجر ظفر اقبال نے کہا کہ گندم ملکی غذائی ضروریات پوری کرنے میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کاشتکاروں پر زور دیا کہ گندم کی کاشت، معیاری بیج اور کھادوں کے متوازن استعمال پر توجہ دیں۔




