زرعی یونیورسٹی میں تقرریاں قانونی عمل کے تحت کیگئیں

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) گورنر پنجاب کے فیصلے کے خلاف سابق وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی ڈاکٹر اقرار احمد خان کی پریس کانفرنس ۔فیصل آباد زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر اقرار احمد خان نے گورنر پنجاب کی جانب سے یونیورسٹی میں ہونے والی 228تقرریوں کو کالعدم قرار دینے کے حکم کو یکطرفہ، غیر قانونی، اور سیاسی قرار دیا ہے۔ فیصل آباد پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر اقرار احمد خان نے کہا کہ یہ فیصلہ تعلیمی معاملات پر سیاسی اثر و رسوخ قائم کرنے کی ایک کوشش ہے، جو نہ صرف یونیورسٹی کے تعلیمی معیار بلکہ اس کے انتظامی ڈھانچے کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوگا۔انہوں نے کہا کہ گورنر پنجاب کے حکم میں یہ تاثر دیا گیا کہ 228تقرریاں بغیر اشتہار کے کی گئی ہیں، جو مکمل طور پر بے بنیاد ہے۔ تمام تقرریاں قانونی عمل کے تحت، اشتہارات کے ذریعے اور ضروری منظوریوں کے بعد کی گئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یونیورسٹی ایکٹ کے مطابق وائس چانسلر کو 17گریڈ سے اوپر کی تقرریوں کا اختیار نہیں ہے، اور تمام تقرریاں فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی، سنڈیکیٹ، اور سینٹ کی منظوری سے کی گئی ہیں، جن میں گورنر کے نمائندے بھی شامل ہوتے ہیں۔ڈاکٹر اقرار احمد خان نے گورنر پنجاب کے فیصلے کو تعلیمی معاملات میں سیاسی مداخلت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے فیصلے یونیورسٹی کے انتظامی ڈھانچے کو کمزور کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فیصلے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ گورنر پنجاب سیاسی بنیادوں پر تعلیمی اداروں کو کنٹرول کرنا چاہتے ہیں، جو کہ اعلی تعلیم کے معیار کو بری طرح متاثر کرے گا۔انہوں نے وضاحت کی کہ 2022میں تمام تقرریوں کے لیے قانونی عمل مکمل کیا گیا، جس میں ہزاروں امیدواروں نے درخواست دی۔ ہر درخواست دہندہ کی اہلیت کو تفصیلی طور پر پرکھا گیا اور غیر موزوں امیدواروں کو اپیل کرنے کا موقع دیا گیا۔ سلیکشن بورڈ اور سنڈیکیٹ نے مکمل کورم کے ساتھ ان تقرریوں کی منظوری دی، جن میں ہائی کورٹ کے جج، پنجاب پبلک سروس کمیشن کے نمائندے، اور دیگر ماہرین شامل تھے۔ڈاکٹر اقرار احمد خان نے گورنر پنجاب کے فیصلے کو یونیورسٹی کے تعلیمی معیار پر براہ راست حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر اس فیصلے کو برقرار رکھا گیا تو یونیورسٹی میں تعلیمی اور تحقیقی سرگرمیوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ہی یونیورسٹی کو 35,000 طلبہ کے لیے کم از کم 1,100اساتذہ کی ضرورت ہے، لیکن اس وقت صرف 700کل وقتی اساتذہ موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ گورنر پنجاب کا یہ فیصلہ سیاسی مقاصد کے تحت کیا گیا ہے اور اس سے نہ صرف یونیورسٹی بلکہ پورے تعلیمی نظام کو نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ حکم تعلیمی ادارے کی خودمختاری کو چیلنج کرتا ہے اور یونیورسٹی کے انتظامی معاملات کو غیر ضروری طور پر سیاسی رنگ دیتا ہے۔ڈاکٹر اقرار احمد خان نے اس بات پر زور دیا کہ گورنر کا یہ فیصلہ عدالت میں چیلنج کیا جائے گا اور تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے یونیورسٹی کے حق کا تحفظ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ صرف یونیورسٹی کا نہیں بلکہ تعلیمی اداروں کی آزادی اور خودمختاری کا ہے، جسے کسی صورت سیاسی بنیادوں پر متاثر نہیں ہونے دیا جائے گا۔انہوں نے میڈیا سے درخواست کی کہ ان کا مقف عوام کے سامنے لایا جائے تاکہ حقائق واضح ہو سکیں اور اس فیصلے کے اثرات کو سمجھا جا سکے۔ ڈاکٹر اقرار احمد خان نے کہا کہ تعلیمی اداروں کو سیاست سے پاک رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ طلبہ اور اساتذہ اپنی ذمہ داریاں بغیر کسی دبا کے انجام دے سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں