بھارت کی جانب سے دریائوں میں پانی چھوڑے جانے کے بعد دریائوں میں اونچے درجے کا سیلاب’ دریائے چناب میں بڑا سیلابی ریلا آنے کا امکان سیلاب کی دوبارہ وارننگ جاری ہیڈ مرالہ کے مقام پر بڑے سیلاب کا خدشہ بھارت نے بھاکڑا ڈیم اور ننگل ڈیم کے اسپل وے بھی کھول دیئے، گنڈاسنگھ والا پر صورتحال خراب’ دریائے ستلج کے سیلابی ریلوں سے بہاولپور کے مقام پر تحصیل صدر بستی یوسف اور احمد والہ کھوہ سمیت 7بند ٹوتنے سے ہزاروں ایکڑ فصلیں زیرآب’ ننکانہ صاحب میں راوی میں اونچے درجے کا سیلاب بھارت کی جانب سے سلال ڈیم کے گیٹ کھولنے سے 8لاکھ کیوسک کا ریلا پاکستان پہنچے گا بھارت نے چند روز قبل بھی 9لاکھ کیوسک کا سیلابی ریلا چھوڑا تھا، دریائے چناب سے جھنگ کے گائوں جنکران میں سیلابی ریلے میں پھنسے لوگوں کو نکالنے کیلئے ریسکیو آپریشن جاری متاثرین اور مال مویشیوں کے کوکشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے، ڈی جی پی ڈی ایم پنجاب عرفان علی نے کہا ہے کہ سیلاب کے باعث 2200 دیہات متاثر ہوئے بارشوں کے نئے اسپیل سے بھی تباہی ہوئی جس کے باعث اربن فلڈنگ کی صورتحال سے بھی نمٹنا پڑ رہا ہے ملتان’ مظفرگڑھ سے بھی بدترین سیلاب کی اطلاعات ہیں،، بھارت کی جانب سے دو مرتبہ بڑے پیمانے پر دریائوں میں پانی چھوڑنے افسوسناک اور پاکستان پر آبی جارحیت ہے پاکستان پہلے ہی موسمیاتی تبدیلیوں سے بہت متاثر ہے اس بار مون سون بارشوں نے بھی حد کر دی سیلاب نے تباہی مچا کر رکھ دی ہے جس سے سینکڑوں دیہات متاثر ہوئے جبکہ بڑی تعداد میں افراد متاثر ہوئے مال مویشیوں کا نقصان الگ ہوا، بھارتی آبی جارحیت کے باعث 1988ء کے بعد سب سے بڑا سیلابی ریلا آیا جس سے بہت تباہی ہوئی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ 2ماہ کے دوران طوفانی بارشوں اور سیلاب کے باعث 831افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے پنجاب میں 191′ کے پی میں 480′ سندھ میں 58′ بلوچستان میں 24 اور گلگت بلتسان میں 41′ آزاد کشمیر میں 29′ اسلام آباد میں 8افراد جاں بحق ہوئے وفاق اور صوبائی حکومتیں سیلاب متاثرین کو ریسکیو کرنے کے ساتھ ساتھ محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے ساتھ ساتھ مال مویشیوں کو بھی محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں مصروف ہیں متاثرین کیلئے ریلیف کیمپ قائم کر کے ان کو پانی اور کھانا فراہم کیا جا رہا ہے حکومت کی جانب سے سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے اقدامات بھی کئے جائیں گے یہ بات ٹھیک ہے کہ بھارت کی آبی جارحیت پاکستان کے لیے مسائل پیدا کر رہی ہے اور وہاں ایسے لوگ قابل ذکر تعداد میں موجود ہیں جو اسے اپنی حکومت کا کارنامہ سمجھتے ہیں لیکن ہمیں اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ پاکستان میں یکے بعد دیگرے قائم ہونے والی حکومتوں نے اس سلسلے میں کیا ٹھوس اقدامات کیے ایسی صورتحال کے پیدا ہونے پر ہر بار سیاسی قیادت کی طرف سے بیانات آتے ہیں کہ ایسا پہلے نہیں ہوا بڑی تباہی ہے مناسب اقدامات کئے جا رہے ہیں وغیرہ لیکن جو کچھ عملی طور پر ہوتا ہے وہ سب کے سامنے ہے یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ ہم دشمن سے اچھے کی توقع رکھ کر خود کو نقصان سے نہیں بچا سکتے بلکہ خود ٹھوس اقدامات کر کے اس پریشانی سے بچ سکتے ہیں جس کا ہمیں ہر دوچار برس کے بعد سامنا کرنا پڑتا ہے دشمن جو کر رہا ہے ہمیں اس سے اس کے علاوہ اور کوئی توقع نہیں رکھ سکتے، تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ سیلاب کے خطرے کو کم کرنے کیلئے مؤثر حکمت عملی اور منصوبہ بندی تیار کی جائے جدید نکاسی آب کا نظام وضع کرنے’ شجرکاری کو فروغ دینے اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کرنے پر توجہ دینا ہو گی سیلاب سے متاثرہ افراد کی بروقت امداد اور عوامی شعور بیدار کرنا نہایت اہم ہے اگر ہم اجتماعی طور پر سنجیدگی سے اقدامات کریں تو سیلاب کی تباہ کاریوں پر کافی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔




