ساہیوال (بیورو چیف) ساہیوال شہر کے مختلف علاقوں میں وائلڈ لائف کی مبینہ ملی بھگت سے جنگلی تیتر کی غیر قانونی خرید و فروخت کا سلسلہ تاحال جاری ہے، جس پر شہریوں اور ماحولیات سے وابستہ حلقوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ہڑپہ، چیچہ وطنی سمیت پورے ضلع میں کھلے عام جنگلی پرندوں کی خرید و فروخت ہوتی ہے، لیکن کارروائیاں محدود نظر آتی ہیں۔ماہرین کے مطابق جنگلی تیتر قدرتی ماحولیاتی نظام کا اہم حصہ ہے، جبکہ اس کا غیر قانونی شکار اور تجارت جنگلی حیات کے تحفظ کے قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان میں مختلف صوبوں کے وائلڈ لائف قوانین کے تحت محفوظ جنگلی پرندوں کی غیر قانونی خرید و فروخت پر جرمانے اور قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ اگر جنگلی تیتر اور دیگر نایاب پرندوں کی غیر قانونی تجارت نہ روکی گئی تو ان کی قدرتی آبادی کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ وائلڈ لائف قوانین پر سختی سے عمل درآمد عوامی آگاہی مہم اور اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کی جائے تاکہ قدرتی ورثے کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔عوام نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ جنگلی حیات کے تحفظ کو ترجیح دی جائے، غیر قانونی شکار اور فروخت کے نیٹ ورکس کو ختم کیا جائے اور قانون شکن عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے قدرتی حیات محفوظ رہ سکے۔




