ساہیوال ( بیورو چیف) شہر میں مہنگائی اور گراں فروشی کم نہ ہو سکی اور پٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد آفٹر ساکش سے کم آمدنی والا طبقہ شدید پریشانی کا شکار ہے۔ ذرائع کے مطابق چاول ،دالیں، گوشت، دودھ، دہی سب مہنگے ہوگئے ہیں۔ ذرائع کا کہناہے کہ چاول 2020 سے 640 روپے کلو میں فروخت ہو رہا ہے جبکہ کوکنگ آئل 490 سے 610 روپے کلو میں فروخت ہو رہا ہے۔ دوسری جانب شہر میں دودھ اور دہی کی قیمتوں پر سرکاری نرخوں پر عمل درآمد نہ ہو سکا، جبکہ مہنگائی کے ساتھ منافع خوروں نے بھی شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد شہرمیں مہنگائی اور گراں فروشی پر قابو نہ پایا جا سکا جس کے باعث کم آمدنی والے شہری شدید مالی مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ روز مرہ استعمال کی اشیائے خورونوش کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں جبکہ متعلقہ ادارے سرکاری نرخوں پر عمل درآمد کرنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق شہر میں چاول بھی، کوکنگ آئل، دالیں، گوشت، دودھ، دہی اور دیگر بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مارکیٹ میں چاول 320 روپے سے 640 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے جبکہ کوکنگ آئل 490 سے 610 روپے فی کلو تک فروخت کیا جا رہا ہے۔ دالوں،سبزیوں اور گوشت کی قیمتیں بھی عام آدمی کی قوت خرید سے باہر ہوتی جارہی ہیں۔ شہر میں دودھ اور دہی کی قیمتوں پر بھی سرکاری نرخ نامے پر عمل درآمد نہ ہو سکا۔ متعدد علاقوں میں دودھ اور دہی مقررہ نرخ سے زائد قیمت پر فروخت کیا جا رہا ہے جبکہ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی کاروائیاں بھی مہنگائی پر قابوپانے میں موثر ثابت نہیں ہو سکیں۔ شہریوں نے شکایت کی کہ پیٹرول مہنگا ہونے کے فوراً بعد ٹرانسپورٹ کرایوں سمیت ہر چیز کی قیمت بڑھادی جاتی ہے، لیکن جب عالمی منڈی یا ملکی سطح پر قیمتیں کم ہوتی ہیں تو اشیائے خورو نوش کے نرخ واپس نہیں آتے۔ ان کا کہنا تھا کہ تنخواہیں اور آمدن جوں کی توں ہیں جبکہ اخراجات کئی گنا بڑھ چکے ہیں، جس سے گھریلو بجٹ بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ کریانہ فروشوں کا کہنا ہے کہ وہ از خود قیمتیں نہیں بڑھاتے بلکہ ہول سیل مارکیٹ سے مہنگا مال ملنے کے باعث انہیں بھی زیادہ نرخ پر فروخت کرنا پڑتی ہے۔ ان کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے سے پرقابو پاسپورٹ اخراجات اور دیگر لاگت بڑھ جاتی ہے جس کا اثر براہ راست اشیائے خوردنوش کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔ ٹرانسپورٹرز نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے گاڑیوں کے ایندھن، پرزہ جات اور مرمت کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث کرایوں میں ردو بدل ناگزیر ہو جاتا ہے، تاہم حکومت کو چاہیے کہ ایندھن کی قیمتوں میں استحکام لائے تاکہ ٹرانسپورٹ کے شعبے پر دباؤ کم ہو اور اس کا اثر عوام تک منتقل نہ ہو۔ شہریوں، سماجی حلقوں اور صارفین کی تنظیموں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا۔ ہے کہ نا جائز منافع خوروں اور گراں فروشوں کے خلاف بلا تمیز کارائی کی جائے، دودھ دی اور دیگر اشیائے ضرور یہ سرکاری نرخوں پر فروخت کرانے کو یقینی بنایا جائے اور کم آمدنی والے طبقے کو مہنگائی کے بوجھ سے ریلیف فراہم کرنے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں۔




