نوجوانوں کی زندگیوں کے ہر مسئلے کا حل شادی نہیں ہے’ ثانیہ سعید

کراچی (شوبز نیوز) ڈرامہ سیریل درِ نجات میں اہم کردار نبھانے والی پاکستانی اداکارہ ثانیہ سعید کا کہنا ہے کہ آج کے دور میں بھی ٹی وی پر ایک بااختیار عورت دکھانے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا جاتا ہے کیونکہ چینلز، رائٹرز اور عوام خواتین کو صرف اخلاقیات کے دائرے میں ہی جج کرنا چاہتے ہیں۔ثانیہ سعید کا شمار ان اداکارائوں میں ہوتا ہے جو ہر کردار میں ڈھلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ چاہے وہ آپ کی عزت میں تابش کی ماں نفیسہ کا کردار ہو یا درِ نجات میں ابو بکر کی ماں خوش بخت کا۔در نجات میں ابوبکر کا کردار اداکار شہریار منور جبکہ زریاب کا کردار درفشاں ادا کر رہی ہیں۔ثانیہ سعید اس ڈرامے میں ابوبکر کی والدہ خوش بخت کا کردار نبھا رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈرامے کا کام ہی یہی ہے کہ وہ دیکھنے والوں میں موضوعِ گفتگو بنے۔بقول ان کے در نجات پر اتنی بات اس لیے ہو رہی ہے کیونکہ پاکستانی ابھی بھی گھریلو معاملات اور رشتوں پر بات کرنا یا اس پر بات ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں۔میڈیا سے خصوصی گفتگو میں ثانیہ سعید نے بتایا کہ درِ نجات میں بھی یہی پہلو اجاگر کیا گیا ہے کہ کس طرح اخلاقیات کا سارا بوجھ لڑکی پر ڈالا جاتا ہے۔در نجات کا یہی موضوع گذشتہ دنوں سوشل میڈیا پر بھی زیر بحث رہا ہے۔ڈرامے کی گذشتہ چند اقساط نشر ہونے کے بعد ناظرین کا کہنا تھا کہ دل ٹوٹنے اور دھوکہ کھانے کے بعد زریاب کو اپنی پڑھائی مکمل کرنی چاہیے تھی اور اپنے آپ کو خود سنبھالنا چاہیے تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں