لاہور(بیوروچیف) ایسوسی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکانٹنٹس (اے سی سی اے) نے ملتان، فیصل آباد اور پشاور میں منعقد ہونیوالی اپنی تین کارپوریٹ کانفرنس سیریز 2025کو کامیابی سے مکمل کیا۔یہ کانفرنسزمالیاتی تبدیلی، موسمیاتی حالات، جدید ٹیکنالوجی اور انسانی وسائل کی ترقی جیسے اہم موضوعات پر مکالمے کو فروغ دینے کے لیے ایک مثر پلیٹ فارم ثابت ہوئیں، جو پاکستان کی معاشی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے فروغ کے لیے اے سی سی اے کے عزم کی عکاس ہیں۔کانفرنس کے پہلے مرحلے کا انعقاد 28 اکتوبر کو رمادا ہوٹل، ملتان میں ہوا، جس میں کاروباری رہنماں اور ماحولیاتی پائیداری کے ماہرین کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔”پاکستان میں گرین بزنس کے فروغ کی ضرورت”کے عنوان سے منعقدہ فائر سائیڈ چیٹ میں اس امر پر زور دیا گیا کہ پائیداری اب معاشی ترقی کا ایک اہم جز بنتی جا رہی ہے۔ اس سیشن کی میزبانی پاکستان لرننگ فورم کی نیشنل صدر ڈاکٹر سیرت فاطمہ نے کی، جبکہ اقبال گروپ کے بانی و سی ای او اور ایم سی سی آئی کے سینئر نائب صدر محسن خواجہ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔اس موقع پر”موسمیاتی تبدیلی اور ٹیکنالوجی: مضبوط کاروباروں کی تشکیل”کے عنوان سے ایک پینل ڈسکشن منعقد ہوا، جس میں وقار طیب (سی ای او، کاگنیٹو مائنڈز انٹرنیشنل)، پروفیسر ڈاکٹر نجم الحق (ڈائریکٹر او آرآئی سی، بہاالدین زکریا یونیورسٹی)، احسن شفیق (ڈائریکٹر، سن کرپ گروپ)، فلزہ ممتاز (بانی وین اور سی ای او شاہز) اور محمد یوسف صدیقی (چیئرمین، آئی سی ایم اے ملتان برانچ کونسل)نے شرکت کی۔کانفرنس کا دوسرا مرحلہ 29 اکتوبر کو سرینا ہوٹل، فیصل آباد میں منعقد ہوا، جس کے مہمانِ خصوصی وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر رانا احسان افضل خان تھے۔انہوں نے حکومتی شفافیت، مالی نظم و ضبط اور پائیدار معیشت کے فروغ کے عزم پر روشنی ڈالی۔”پاکستان میں گرین بزنس کے فروغ کی اہمیت”کے موضوع پر فائر سائیڈ چیٹ زیشان شاہد (اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم ایکسپرٹ) کی میزبانی میں منعقد ہوئی، جبکہ نازش شیخا (ہیڈ آف انیشی ایٹو، سی ای آر بی، پاکستان بزنس کونسل) نے ای ایس جی اور پائیداری کے حوالے سے کارپوریٹ اداروں کی پیش رفت پر گفتگو کی۔”مالیاتی و پائیداری رپورٹنگ کا اشتراک”کے موضوع پر ایک معلوماتی پینل ڈسکشن بھی ہوا جس میں علیم زبیر (پارٹنر، اے ایف فرگوسن اینڈ کمپنی – پی ڈبلیو سی)، محمد فہد نعیم (سی ای او، ایس او ایس ٹیکنالوجیز)، عثمان احسن (سی ایف او، انجم ٹیکسٹائلز) اور طیب ارشد (بانی،خضرا اے آئی) نے شرکت کی۔سیریز کا اختتامی مرحلہ 30 اکتوبر کو سیریناہوٹل، پشاور میں منعقد ہوا، جس کا افتتاح وزیرِ خزانہ، حکومت خیبر پختونخوا مزمل اسلم نے کیاجبکہ محمد اظفر احسن، چیئرمین، نٹ شیل گروپ بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے جنہوں نے”پاکستان کا انویسٹمنٹ ری سیٹ وژن2035 ” کے عنوان سے اہم بریفنگ پیش کی۔ایک جامع پینل ڈسکشن میں ڈاکٹر محمد رفیق (ممبر کلائمیٹ فنانس، پاکستان کلائمیٹ چینج اتھارٹی)، ایئر وائس مارشل (ر) اعجاز محمود (ڈپٹی سی ای او، ساتھ ایئر)، عاکف خان (منیجنگ ڈائریکٹر، کے پی آئی ٹی بورڈ)، ڈاکٹر سید مرتضی اصغر بخاری (سی ای او، ٹرانس پشاور)، نازش امین (ایکسٹرنل آڈیٹر، ایف بی آر)، اور عرفان سلیم اعوان (سی ایف او، بینک آف خیبر) نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔سیشن کی میزبانی حنا ناصر، سینئر سسٹین ایبلٹی ایکسپرٹ نے کی، جبکہ فوزیہ اقبال، ڈائریکٹر جنرل، کے پی آر اے نے اپنے خطاب میں صوبے کی ڈیجیٹل اور سرکاری شعبے میں اصلاحات سے متعلق اہداف پر روشنی ڈالی۔کانفرنس سیریز پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے، ہیڈ آف اے سی سی اے پاکستان اسد حمید خان نے کہا”عصرِ حاضر کے مالیاتی ماہرین کو نہ صرف تبدیلی کے ساتھ ہم آہنگ ہونا چاہیے بلکہ اس کی قیادت بھی کرنی چاہیے۔ جدت، شمولیت اور پائیدار ترقی کے ذریعے حقیقی قدر پیدا کرنا ہی مستقبل کا راستہ ہے۔اے سی سی اے کی یہ کانفرنسز پاکستان کے باصلاحیت نوجوانوں کو عالمی سطح پر نمایاں بنانے کے ہمارے عزم کی واضح مثال ہیں۔”ان کانفرنسز کے دوران نئے اے سی سی اے ممبران اور فیلو ممبرز کو خوش آمدید کہتے ہوئے اے سی سی اے کی قیادت اور کاروباری برادری سے نیٹ ورکنگ کے مواقع بھی فراہم کیے گئے۔اے سی سی اے کارپوریٹ کانفرنس 2025 کے اسٹریٹیجک پارٹنرز میں ٹی ایم یو سی پاکستان، ایس او ایس پاکستان، سکینز، اور ابھی مائیکروفنانس بینک شامل تھے جبکہ ڈاولنس نے بطور پلاٹینم پارٹنرشرکت کی۔




