فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) پاکستان فلاح پارٹی کے چیئرمین محمد رمضان مغل ایڈووکیٹ، سید آفتاب عظیم بخاری سینئر وائس چیئرمین،سید راشد علی گردیزی سیکرٹری جنرل،چوہدری ضمیر گجر صدرپنجاب شمالی، شیخ محمد علی،میاں راشد حفیظ،محمد رفیق لودھی ودیگر ذمہ داران نے کشمیر میں جاری خونریزی، عوامی رائے کو دبانے اور سیاسی آزادیو ں پر قدغن لگانے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انجمن طلبہ اسلام کے مرکزی صدر فیصل قیوم ماگرے کی نیشنل پریس کلب میں منعقد ہونے والی پریس کانفرنس کو جبرا ملتوی کروانا نہ صرف جمہوری اقدار بلکہ آئینی آزادیوں کے بھی منافی اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات نوجوان نسل میں احساسِ محرومی اور ریاستی اداروں سے بداعتمادی پیدا کرتے ہیں، جو کسی بھی طور ملک و قوم کے مفاد میں نہیں۔ذمہ داران نے کہا کہ پاکستان فلاح پارٹی ہر پاکستانی اور ہر کشمیری شہری کے آئینی اور جمہوری حقِ اظہارِ رائے کی حمایت کرتی ہے۔ اختلافِ رائے کو طاقت، دبائو یا تشدد کے ذریعے دبانے کی کوششیں مسائل کا حل نہیں بلکہ انہیں مزید پیچیدہ بناتی ہیں۔ اگر عوام، طلبہ، سیاسی کارکنوں اور سماجی نمائندوں کو اپنے موقف کے اظہار کا حق نہیں دیا جائے گا تو اس سے حکومت مخالف جذبات میں اضافہ ہوگا، جس کے نتائج ملک کے امن، استحکام اور قومی یکجہتی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیر ایک حساس مسئلہ ہے اور وہاں کے عوام کی مشکلات، جانوں کے ضیاع اور انسانی حقوق سے متعلق معاملات کو سنجیدگی سے سننے اور ان پر بات کرنے کی ضرورت ہے۔ پرامن پریس کانفرنسوں، سیاسی سرگرمیوں اور جمہوری اظہار کو روکنا کسی بھی مہذب معاشرے کی روایت نہیں۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام شہریوں کو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اظہارِ رائے اور پرامن اجتماع کے بنیادی حقوق فراہم کرے۔ پاکستان فلاح پارٹی نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ نیشنل پریس کلب میں پیش آنے والے واقعے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ دار عناصر کا تعین کیا جائے اور آئندہ کسی بھی شہری، طلبہ تنظیم یا سیاسی جماعت کو اپنی رائے کے اظہار سے روکنے کی روایت کا خاتمہ کیا جائے۔ ریاست کی مضبوطی جبر سے نہیں بلکہ انصاف، آئین کی بالادستی، مکالمے اور عوام کے اعتماد سے ممکن ہے۔ پاکستان فلاح پارٹی ہر قسم کے جبر، تشدد اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی مخالفت کرتی رہے گی اور ملک میں جمہوری روایات، آئینی آزادیوں، قومی یکجہتی اور پائیدار امن کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔




