یانگ لِنگ(مانیٹرنگ ڈیسک)چین اور پاکستان کے درمیان جدید زرعی تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے خشک علاقوں میں حیاتیاتی وسائل اور سبز و اسمارٹ زراعت سے متعلق بیلٹ اینڈ روڈ جوائنٹ لیبارٹری کا افتتاح شمال مغربی چین کے صوبہ شانشی میں کیا گیا۔چائنہ اکنامک نیٹ کے مطابق یہ جوائنٹ ریسرچ پلیٹ فارم نارتھ ویسٹ اے اینڈ ایف یونیورسٹی کی قیادت میں قائم کیا گیا ہے، جس میں پاکستان کی یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد، پیر مہر علی شاہ ایریڈ ایگریکلچر یونیورسٹی راولپنڈی، ایوب زرعی ریسرچ انسٹیٹیوٹ اور سندھ ایگریکلچر یونیورسٹی بھی شریک ہیں۔مشترکہ تجربہ گاہ کے چینی ڈائریکٹر اور نارتھ ویسٹ اے اینڈ ایف یونیورسٹی کے پروفیسرژانگ لِکسن کے مطابق یہ تحقیقی پلیٹ فارم چھ اہم شعبوں پر توجہ دے گا، جن میں جینیاتی وسائل اور ذہین افزائش نسل، اسمارٹ فصلوں کا انتخاب، زرعی ڈیٹا پلیٹ فارمز، ذہین کاشتکاری اور مویشی پروری، درست زرعی زمین کا انتظام، اور پائیدار فصلوں کی پیداوار کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی فیصلہ سازی شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ جینیاتی وسائل اور افزائش نسل کے شعبے میں پاکستان، ازبکستان اور دیگر خشک خطوں سے فصلوں کے جینیاتی نمونوں کا ابتدائی ذخیرہ مکمل کر لیا گیا ہے، جس میں 120 سے زائد منفرد جراثیمی وسائل (جرم پلازم)شامل ہیں۔ ان وسائل کے لیے ایک معیاری جینیاتی بینک قائم کیا جا چکا ہے، جبکہ خلائی تغیرات اور انٹیلیجنٹ ڈیزائن” پر مبنی ابتدائی افزائشی نظام بھی تیار کیا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں گندم، سرسوں، تل، سبزیوں اور چارہ جات سمیت 11 نئی، اعلیٰ معیار اور موسمی دبا برداشت کرنے والی اقسام تیار اور منتخب کی جا چکی ہیں، جو جنوبی اور وسطی ایشیا کے لیے موزوں ہیں۔چائنہ اکنامک نیٹ کے مطابق سبز اور انٹیلیجنٹ زرعی ٹیکنالوجی کے میدان میں پانی اور کھاد کے مربوط نظام، تکنیکی و انتظامی فیصلہ سازی کے معاون نظام، اسمارٹ باغبانی، زرعی مشینری کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی ماڈلز، اور فصلوں کی باقیات سے حیاتیاتی کھاد تیار کرنے جیسی متعدد جدید ٹیکنالوجیز تیار کی گئی ہیں۔ ان ٹیکنالوجیز کو مقامی ضروریات کے مطابق بہتر بنا کر پاکستان اور ازبکستان سمیت مختلف ممالک میں عملی طور پر متعارف کرایا جا رہا ہے۔پروفیسر ژانگ نے بتایا کہ خشک علاقوں میں اسمارٹ زراعت اور حیاتیاتی صحت کی ٹیکنالوجیز کے حوالے سے تربیتی پروگرام بھی شروع کیے جائیں گے۔ پہلا تربیتی پروگرام 2026 کی دوسری ششماہی میں منعقد ہوگا، جس میں بیلٹ اینڈ روڈ کے شراکت دار ممالک سے 12 نوجوان محققین کو مدعو کیا جائے گا۔ نظریاتی تعلیم، عملی تربیت اور فیلڈ وزٹس پر مشتمل یہ پروگرام مقامی سائنس دانوں اور تکنیکی ماہرین کی صلاحیتوں میں اضافہ اور تحقیق و ترقی کے فروغ میں معاون ثابت ہوگا۔ ایوب زرعی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے پرنسپل سائنس دان حافظ سعد بن مصطفی نے چائنا اکنامک نیٹ کو بتایا کہ تعاون کی اہم ترجیحات میں جدید زرعی ٹیکنالوجی اور مشینری کی منتقلی شامل ہے، جن میں پریسیژن سیڈ پلانٹرز، جدید ہارویسٹرز، بین الکاشت مشینری، کمبائن ہارویسٹرز اور جینیاتی وسائل کی پراسیسنگ کے خصوصی آلات شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زرعی مصنوعات کی پراسیسنگ اور محققین کی تربیت کے ذریعے استعداد کار میں اضافہ بھی تعاون کے اہم شعبے ہیں۔پروفیسر ژانگ کے مطابق دسمبر 2025 سے اب تک پاکستان، بنگلہ دیش اور انڈونیشیا سمیت مختلف ممالک کے دس سے زائد پوسٹ گریجویٹ طلبہ کو اس تجربہ گاہ میں داخلہ دیا جا چکا ہے۔ پیر مہر علی شاہ ایریڈ ایگریکلچر یونیورسٹی راولپنڈی کے دو پی ایچ ڈی طلبہ چھ ماہ کے مشترکہ تحقیقی منصوبوں کے لیے تجربہ گاہ میں شامل ہوئے، جبکہ چین کے پانچ پوسٹ گریجویٹ طلبہ کو پاکستان میں فیلڈ انٹرن شپ اور زرعی ضروریات کے جائزے کے لیے منتخب کیا گیا۔ اس مشترکہ تعاون کے نتیجے میں دو ایس سی آئی انڈیکس تحقیقی مقالے بین الاقوامی جرائد میں شائع ہو چکے ہیں، جن میں مشترکہ تجربہ گاہ کو بنیادی تحقیقی ادارے کے طور پر درج کیا گیا ہے۔کانفرنس کے دوران حیاتیاتی اور صحت بخش زرعی مصنوعات کی پیداوار سے متعلق ایک تحقیقی کتاب کی رونمائی بھی کی گئی، جس میں جدید بائیوٹیکنالوجی کے ذریعے فصلوں کی کاشت اور مویشیوں کی پیداوار سے متعلق رہنمائی فراہم کی گئی ہے۔ اس موقع پر پاکستان کی یونیورسٹی سندھ اور یونیورسٹی پنجاب کے علاوہ بنگلہ دیش اور انڈونیشیا کی ایک ایک یونیورسٹی نے بھی باضابطہ طور پر سلک روڈ ایگریکلچرل ایجوکیشن اینڈ ریسرچ انوویشن الائنس میں شمولیت اختیار کی، تاکہ زرعی سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون اور تبادلہ مزید مضبوط بنایا جا سکے۔




