کلیدی عہدوں پر براجمان قادیانی ملکی سلامتی کیلئے خطرہ ہیں

چنیوٹ(نامہ نگار)عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مرکز ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر میں منعقد ہونے والی 44ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس نعرہ تکبیر اور تاج و تخت ختم نبوت زندہ باد اور پاکستان پائندہ باد کے نعروں اور مظلوم فلسطینیوں کے لیے پرسوز دعا اورپرجوش لمحات میں اختتام پذیر ہوگئی۔ سیکورٹی کے حساس اداروں نے پنڈال کو چاروں اطراف سے گھیر ے میں لیا ہوا تھا۔مسلم کالونی کی ملحقہ سڑکوں کو خار دار تاروں سے بند کیا ہوا تھا کانفرنس کی مختلف نشستوں سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ قادیانی پاکستان میں وہ حیثیت حاصل کرنا چاہتے ہیں جو یہودیوں کو امریکہ میں حاصل ہے،قادیانی گروہ کو کسی دور میں بھی مسلم سوسائٹی کا حصہ نہیں سمجھا گیا۔کلیدی عہدوں پر براجمان سکہ بند قادیانی ملکی سلامتی اور استحکام کے لئے شدید خطرہ ہیں۔ہماری وزارت داخلہ اور خارجہ میں گھسے ہوئے قادیانیوں کو ہٹائے بغیر ہمارے ایٹمی اثاثہ جات محفوظ نہیں ہوسکتے۔ چناب نگر میں قادیانی جماعت کی طرف سے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر انسانی حقوق کی تنظیموں کی خاموشی امت مسلمہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ بیورکریسی میں چھپے ہوئے قادیانی فوج، دینی قوتوں اور جمہوری اداروں میں تنا پیدا کر کے ملک کونظریاتی و معاشی تباہی سے غیر مستحکم کررہے ہیں۔ بین الاقوامی لابنگ کے تحت اقلیتوں کے حقوق کے نام پر اکثریت کی مذہبی شناخت اور اسلامی اقدار کو مسخ کرنا مغربی آقاں کو خوش کرنے کے مترا دف ہے امتناع قادیانیت ایکٹ کی روشنی میں قادیانیوں کو اسلامی شعائر، کلمہ طیبہ اور قرآنی آیات کے استعمال کرنے سے روکا جائے۔ مقررین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سول اور فوج کے بنیادی عہدوں سے قادیانیوں کو ہٹایا جائے۔ بیرون ممالک میں قادیانیوں کی اسلام و ملک دشمن سرگرمیوں کے تدارک کے لئے پاکستانی سفارتخانوں کو متحرک اور فعال کیا جائے۔ کانفرنس کی مختلف نشستوں کی صدارت امیر مرکزیہ پیر حافظ ناصرالدین خاکوانی،نائب امیرمرکزیہ صاحبزادہ خواجہ عزیز احمد و، خانقاہ سراجیہ کندیاں کے سجادہ نشین صاحبزادہ خواجہ خلیل احمد، مولانا محب اللہ لورالائی نے کی۔جب کہ کانفرنس سے جماعت اسلامی کے سابق امیرسراج الحق، جمعیت علمائے پاکستان کے صاحبزادہ ابوالخیرمحمد زبیر،عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلی مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا اللہ وسایا، مولانا قاری اکرام الحق مردان، مولانا اعزازالحق صوابی،مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا مفتی محمد اعجاز مصطفی، ڈاکٹر احمد یوسف بنوری،مفتی خالد محمود اور قاضی احسان احمد کراچی کے علاوہ (مسلم لیگ ن کے ایم،پی،اے)مولانا محمد الیاس چنیوٹی معروف دانشور، کیپٹن (ر) محمد صفدر،جنرل(ر) حمیدگل مرحوم کے صاحبزادے عبداللہ گل، اسلامی نظریاتی کونسل کے حافظ محمد امجد،متحدہ جمعیت اہلحدیث کے سید ضیا اللہ شاہ بخاری، جمعیت علمائے اسلام (س)کے مولانا حذیفہ سمیع اکوڑہ خٹک کے علاوہ، مولانا قاضی ارشد الحسینی، مولانا منیر احمد منور کہروڑپکا،پیر میاں رضوان نفیس لاہور، مولانا قاضی مشتاق احمد راولپنڈی، مولانا محمد رضوان عزیز عارف والا، خواجہ مدثرمحمود تونسہ شریف، مولانا وقاص کریم، سمیت متعدد مذہبی رہنماں اور مقتدر شخصیات نے خطاب کیا۔ جماعت اسلامی کے سراج الحق نے کہا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ہم سب کے لیے ایک چھتری اور سائبان ہے ختم نبوت کی حفاظت کے لیے صحابہ کرام اور امت مسلمہ نے لازوال قربانیاں دیں،قادیانی فتنہ مرزا قادیانی کو نجات دہندہ مانتا ہے اور اس فتنہ کے خلاف ہمیں ہمہ قسم کا جہاد اور جد وجہد کو جاری رکھنا ہو گا،اسرائیل اور ٹرمپ مکمل طور پر قادیانیوں کی سرپرستی کر رہے ہیں،پاکستان عالم اسلام کا ایک بڑا ملک ہے افغانستان کا پاکستان سے لڑنا اور پاکستان کا افغانستان سے لڑنا ہماری نہیں امر یکہ اور انڈیا اور اسلام وملک دشمن لابیوں کی کامیابی ہے۔مولانا پیر ناصر الدین خاکوانی نے کہا کہ علما کرام اور اسلامیان پاکستان تحفظ ختم نبوت اور دفاع ناموس رسالت کے مقدس مشن کی آبیاری کودنیا و آخرت کی سب سے بڑی کامیابی سمجھتے ہیں۔کیپٹن (ر) محمد صفدرنے کہا کہ اللہ تعالی نے حضرت محمد ۖ کے لیے تمام انبیا سے ایگر یمنٹ اورمیثاق لیا اور آپ کو خاتم النبیین کی اعزازی صفت سے نوازا،قادیانیت کا کفر، ارتداد اور زندقہ کے زمرے میں آتا ہے مرزا قادیانی نے انگریز کے ایما پر نبوت کا جھوٹا دعوی کیا،قادیانی آئین اور قانون کی رو سے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر نہیں کرسکتے قرآنی آیات اور اسلامی شعائر استعمال کرنے پر پابندی ہے،تمام سیاسی جماعتیں اپنے امیدواروں کو ٹکٹ دیتے وقت تحفظ ختم نبوت کی جدوجہد کا اقرار لے کرپارٹی ٹکٹ دیا کریں۔ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر نے کہا کہ اتحاد امت کی وجہ سے 1974 میں پارلیمنٹ کی سطح پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تھا،جب بھی تحفظ ختم نبوت کے خلاف سازش ہوئی تو مجلس تحفظ ختم نبوت کے اکابرین نے تمام مکاتب فکر کے علما کو اکٹھا کر کے تحریک چلائی تو اللہ تعالی نے مسلمانوں کو کامیابی نصیب فرمائی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں