گندم کی کاشت کیلئے 15سے20دن نہایت اہم ہیں

سرگودہا ( بیورو چیف) کمشنر سرگودہا ڈویژن جہانزیب اعوان کی زیر صدارت ڈویژنل گندم کمیٹی کا دوسرا اجلاس ان کے کانفرنس روم میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں چاروں اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز، ڈائریکٹر زراعت، پرنسپل زرعی کالج جامعہ سرگودہا، کاشتکار نمائندگان، ڈپٹی ڈائریکٹر خوراک، زرعی ماہرین، کراپ رپورٹنگ سمیت متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ رواں سال سرگودہا ڈویڑن میں 17 لاکھ 21 ہزار ایکڑ رقبہ پر گندم کاشت کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ اب تک 61 ہزار ایکڑ پر کاشت مکمل ہو چکی ہے۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں اس سال گندم کی کاشت میں دوگنا اضافہ دیکھا گیا ہے، جو کاشتکاروں کے جوش و جذبے اور فوڈ سکیورٹی کے حوالے سے ان کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ڈائریکٹر زراعت نے بتایا کہ اگلے 15 سے 20 دن گندم کی کاشت کے لیے نہایت اہم ہیں، اس حوالے سے تحصیل، یونین کونسل اور دیہات کی سطح پر اہداف طے کر دیے گئے ہیں۔ کاشتکاروں کی رہنمائی کے لیے ٹریننگ پروگرام جاری ہیں جن میں تصدیق شدہ بیج، کھاد، زرعی ادویات کے درست استعمال اور بروقت کاشت کی اہمیت سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔ مزید بتایا گیا کہ مساجد، ریڈیو، سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے آگاہی مہم بھرپور انداز میں جاری ہے جبکہ کاشتکاروں میں لٹریچر بھی تقسیم کیا جا رہا ہے۔ ڈویژن بھر میں محکمہ زراعت کے 221 زرعی گریجویٹس کو فعال کیا گیا ہے جو کاشتکاروں کے کھیتوں پر جا کر رہنمائی فراہم کر رہے ہیں۔اجلاس کو بتایا گیا کہ امسال گندم کی تین نئی اقسام متعارف کرائی گئی ہیں جن سے فی ایکڑ پیداوار میں 70 من تک اضافہ ممکن ہے۔ حکومت پنجاب نے اس سال گندم کی فی من قیمت 35 سو روپے مقرر کی ہے جبکہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں 62 لاکھ میٹرک ٹن گندم خریدنے کے لیے پرعزم ہیں۔ ڈائریکٹر زراعت نے مزید بتایا کہ سرگودہا ڈویژن کے 66 ہزار کاشتکاروں نے کسان کارڈ کے ذریعے سات ارب روپے کے قرضے حاصل کیے ہیں جن کی واپسی 15 نومبر تک مقرر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں