گنے کی زیادہ پیداوار دینے والی اقسام کاشت کی جائے

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے شعبہ پلانٹ بریڈنگ اینڈ جینیٹکس نے شوگر کین ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ کے اشتراک سے 15 افریقی ممالک کے گنے کے ماہرین کے لیے منعقدہ چار ہفتوں پر مشتمل تربیتی پروگرام اختتام پذیر ہو گیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے کہا کہ زرعی شعبے کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اس نوعیت کے باہمی تعاون وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں گنا ملک کی دوسری بڑی زرعی بنیادوں پر قائم صنعت، شوگر انڈسٹری کے لیے بنیادی خام مال فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سال 2025-26ء کے دوران پاکستان میں گنے کی پیداوار 6.2 فیصد اضافے کے ساتھ 89.45 ملین ٹن تک پہنچ گئی جس میں 3.7 فیصد بہتری کا نمایاں کردار رہا۔ اس موقع پر چیف ایگزیکٹو آفیسر شوگر کین ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ ڈاکٹر شاہد افغان، شوگر کین ریسرچ انسٹیٹیوٹ ایوب ریسرچ کے چیف سائنسدان ڈاکٹر کاشف منیر اور ایس آر ڈی بی کے کنسلٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر آصف تنویر نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ تربیتی پروگرام شرکاء کو گنے کی کاشت اور تحقیق سے متعلق مسائل سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے جامع مہارتیں فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ زیادہ پیداوار دینے والی اقسام کی کاشت اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کے ذریعے گنے اور چینی کی پیداوار میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں