فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) سینئر سیاستدان اور سابق وفاقی پارلیمانی سیکرٹری رانا زاہد توصیف نے کہا ہے کہ ممکنہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچا اور موسمی تغیرات کے قومی سطح کے خطرات سے نبرد آزما ہونے کے لیے محض ڈنگ ٹپائو پالیسی کی بجائے وفاقی اور صوبائی سطح پر موثر اور جامع پلان اشد ضرور ی ہے۔ انہوں نے پر ی مون سون بارشوں کے باعث خیبر پختونخواہ اور دیگر علاقوں میں ہونے والی ہلاکتوںپر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا کہ اگر ماضی میں سیلابی پانی کو سٹور کرنے کے لیے ملک کے مختلف مقامات پر ذخائر تعمیر کیے جاتے تو ہر سال بدترین سیلاب سے ہونے والے سنگین نقصانات سے نجات ممکن تھی مگر بد قسمتی سے اس اہم ایشو پر توجہ دینے اور عملی اقدامات کی بجائے مالیاتی ادارہ آئی ایم ایف سے قرض لے کر بیکار منصوبوں پر اربوں روپے ضائع کیے گئے۔ رانا زاہد توصیف نے کہا کہ ہر سال ملک بھر میں سیلاب سے ہونے والی تباہی کے ضمن میں نہ صرف ہنگامی فنڈز مختص کیے جاتے ہیں بلکہ عوام کو جانی و مالی نقصان کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔ حکمران متاثرین کی عارضی امداد کر کے بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔ مگر ہر سال سیلاب سے ہونے والی تباہ کاریوں کی مستقل بنیاد پر روک تھام کے لیے اقدامات نہیں کیے جاتے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس بھی ملک بھر میں ہونے والی طوفانی بارشوں اور بدترین سیلاب کے باعث سینکڑوں گھرانے اجڑ گئے۔ قیمتی اموات ضائع ہوئیں۔ مگر اج تک سیلابی، بارشی پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے چھوٹے بڑے سٹورز نہ بنائے گئے۔ضروری ہے کہ حکمران کھربوں کے بیکار منصوبوں کی بجائے عوام کی جان و مال کے تحفظ اور مون سون بارشوں سے ہونے والی تباہی کی روک تھام کے لیے موثر منصوبہ بندی کریں۔ اور ملک کے مختلف مقامات پر ذخائر تعمیر کئے جائیں۔




