ساہیوال (بیورو چیف) شہر کی اوپن مارکیٹ میں اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا، جبکہ سرکاری نرخ اور مارکیٹ قیمتوں میں واضح فرق برقرار ہے۔گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں رواں ہفتے 5سے 30روپے فی کلوگرام تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ مختلف اقسام کے چاول 320سے 640روپے فی کلوگرام میں فروخت ہو رہے ہیں۔ پتی 800گرام 1800سے 1900روپے کی ہوگئی سبزیوں اور پھلوں کی قیمتیں بھی کہیں زیادہ وصول کی جا رہی ہیں۔ پیاز سرکاری نرخ 95روپے کے مقابلے میں 150روپے فی کلو، ٹماٹر 210روپے کے بجائے 260 روپے فی کلو، چائینہ لہسن 235روپے کے مقابلے میں 320روپے فی کلو اور ادرک 320روپے کے بجائے 400روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہے۔دیسی لیموں کی سرکاری قیمت 150روپے ہونے کے باوجود اوپن مارکیٹ میں 600روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے۔ شلجم 50روپے کی جگہ 70 سے 80روپے، بھنڈی 90روپے کی جگہ 150روپے، پالک 25روپے کے مقابلے میں 40سے 60روپے جبکہ دیسی ٹینڈے 90روپے کے بجائے 150روپے فی کلو فروخت کیے جا رہے ہیں۔ آم سندھڑی کی سرکاری قیمت 225روپے جبکہ مارکیٹ میں 350روپے فی کلو، آم دوسہری 200روپے کے مقابلے میں 250روپے فی کلو اور آم انور رٹول 305روپے کے بجائے 400روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔ اسی طرح سفید سیب 250روپے کے مقابلے میں 280روپے فی کلو جبکہ کیلا 215روپے فی درجن کے بجائے 250روپے فی درجن فروخت کیا جا رہا ہے۔ الائچی کی سرکاری قیمت 605 روپے کی جگہ 780روپے فی کلو تک وصول کی جا رہی ہے۔شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ مہنگائی پر قابو پانے، سرکاری نرخ نامے پر عملدرآمد یقینی بنانے اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں۔




