ہائبرڈ نظام سے پیدا ہونیوالے مسائل

موجودہ ہائبرڈ اقتدار اور غیر فطری انتظامی گٹھ جوڑ نے پاکستان کے آئینی، سیاسی اور اقتصادی ڈھانچے کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ آئینِ پاکستان کی روح کے مطابق ملک کا باقاعدہ سربراہِ صدرِ مملکت اور وزیر اعظم ہوتا ہے، لیکن انتظامی حقیقت یہ بن چکی ہے کہ ریاستی اداروں کے وہ کردار اور نااہل وزرا، جیسے کہ محسن نقوی، جن کے پاس داخلہ امور کے ساتھ ساتھ دیگر اختیارات مرتکز کر دیے گئے ہیں جن کا ان کے آئینی منصب سے دور کا بھی تعلق نہیں۔ ستم ظریفی اور تعجب کی حد تو یہ ہے کہ یہی ایک شخص ایک ہی وقت میں پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB)کے چیئرمین کے عہدے کے مزے بھی لوٹ رہا ہے؛ آئینی طور پر منتخب نمائندے محض سیکیورٹی پروٹوکولز، شاہانہ غیر ملکی دوروں، اور ایک دوسرے پر سیاسی کیچڑ اچھالنے تک محدود ہو چکے ہیں، جبکہ ملک کے حقیقی خارجی و داخلی فیصلے وہ عناصر کر رہے ہیں جن کے پاس عوامی مینڈیٹ موجود ہی نہیں۔ اس نام نہاد ہائبرڈ تجربے کے نتیجے میں ملک کو جس معاشی تباہی کا سامنا کرنا پڑا ہے، اس کی تصدیق گرائونڈ اعداد و شمار خود کرتے ہیں۔ اس ہائبرڈ انتظامیہ سے قبل جہاں ملک کی حقیقی جی ڈی پی (GDP)نمو تقریبا 5.8%سے 6.2% کی شرح سے پیشرفت کر رہی تھی، وہاں اس نظام کے نافذ ہوتے ہی معاشی نمو صفر سے نیچے منفی 0.2%تک گر گئی اور بعد میں بمشکل 2.5%سے 3.7%کے درمیان سسکتی نظر آئی۔ اسی طرح افراطِ زر یعنی مہنگائی کی شرح جو ماضی میں12%کے قریب تھی، اس انتظامی مس ایڈونچر کے دوران تاریخ کی بلند ترین سطح یعنی 38%سے تجاوز کر گئی، جس نے عام شہری سے روٹی کا نوالہ تک چھین لیا۔ ملکی برآمدات جو ماضی میں 30 Billion USD کا ہندسہ عبور کر رہی تھیں، وہ خام مال کی عدم دستیابی اور توانائی کے بحران کے باعث زوال کا شکار ہو کر سخت دبا میں آئیں۔ ملک پر غیر ملکی قرضوں کا بوجھ بڑھ کر 131 Billion USDسے تجاوز کر گیا، جبکہ قومی آمدنی کا بڑا حصہ پیداواری کاموں کے بجائے محض ان قرضوں پر سود کی ادائیگی میں ضائع ہو رہا ہے۔ عالمی برادری میں ہماری ساکھ اس حد تک گر چکی ہے کہ وزیر اعظم ورلڈ بینک اور دیگر دوست ممالک سے مسلسل کشکول لے کر قرض مانگ رہے ہیں، لیکن بگڑتی ہوئی سیاسی صورتحال اور نااہلی کی وجہ سے کوئی بھی انہیں مزید قرض دینے کو تیار نہیں۔ ایک طرف تو یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ملک کے پاس فنڈز کی شدید کمی ہے اور خزانہ خالی ہو چکا ہے، لیکن دوسری طرف ہماری حکمران اشرافیہ اپنی شاہانہ مراعات اور عیاشیوں میں کمی لانے کے بجائے ان پر بے دریغ رقم بہا رہی ہے، جبکہ مظلوم عوام معاشی طور پر مسلسل تنزلی اور نچلی سطح کی طرف دھکیلے جا رہے ہیں۔ معاشی مایوسی کا سب سے خونچکاں پہلو برین ڈرین ہے؛ اس ہائبر ڈ نظام کے دوران محض چند سالو ں میں 1.5 Million سے زائد پڑھے لکھے نوجوان، ڈاکٹرز، انجینئرز اور آئی ٹی ماہرین ملک چھوڑ کر بیرونِ ملک منتقل ہو گئے، جن میں سے صرف سال 2023اور 2024کے دوران ہی 1.5 Millionسے زیادہ افرادی قوت نے دوسرے ممالک کا رخ کیا۔جب حکمران طبقہ اپنی آئینی حدود سے تجاوز کر کے دیگر تمام اداروں پر قبضے کی کوششوں میں مصروف ہو، تو ملکی سلامتی کا دفاعی ڈھانچہ تاش کے پتوں کی طرح بکھر جاتا ہے۔ اپنے بنیادی فرائض سے غفلت اور نام نہاد سیاسی جوڑ توڑ کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ بلوچستان شدید بے چینی کی زد میں ہے، داخلی سیکیورٹی اور انتظامی فہم سے عاری افراد کو ملکی باگ ڈور سونپنے کا خمیازہ یہ قوم اس صورت میں بھگت رہی ہے کہ مسائل مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ حکمران اگر اپنے اصل آئینی دائرہ کار کے اندر رہ کر کام کرتے اور عوام کے بنیادی حقوق کا احترام کرتے تو آج صورتحال مختلف ہوتی۔ اس غیر فطری ہائبرڈ تجربے نے جو مسائل کئے وہ روز روشن کی طرح عیاں ہو چکے ہیں لہٰذا صورتحال میں بہتری پر توجہ مرکوز کرنا بیحد ضروری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں