سابق فوجیوں کے تجربے سے استفادہ کرنے کی ضرورت (اداریہ)

سابق فوجی افسران اور جوان اپنی عملی زندگی میں نظم وضبط’ قیادت’ فیصلہ سازی اور مشکل حالات سے نمٹنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، ان کا یہ تجربہ محض ان کی ذاتی زندگی تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے قومی ترقی اور ادارہ جاتی بہتری کے لیے بروئے کار لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ سابق فوجیوں کی خدمات اور قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے ان کی صلاحیتوں سے استفادہ کیا جائے تو وہ ملک وقوم کے لیے ایک مؤثر قوت ثابت ہو سکتے ہیں۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ سابق فوجیوں کا تجربہ اور رہنمائی قیمتی سرمایہ ہے۔ انہوں نے ملک کے دفاع میں سابق فوجیوں کی انمول شراکت اور تاحیات خدمات کو زبردست خراج تحسین بھی پیش کیا اور قومی لچک کو مضبوط بنانے میں ان کے لازوال کردار کا اعتراف بھی کیا۔ ارض پاک کی سلامتی اور تحفظ کی تاریخ میں یہ حقیقت ہمیشہ نمایاں رہی ہے کہ مسلح افواج کی اصل قوت صرف اس کے حاضر سروس افسران اور اہلکاروں تک محدود نہیں ہوتی بلکہ اس کے سابق افسران اور جوانوں کا تجربہ’ دانش اور مسلسل وابستگی بھی بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ ضرب غضب’ ردالفساد اور اس نوعیت کے دیگر آپریشنز محض فوجی کارروائیاں نہیں ہیں بلکہ یہ قوم کی بقا کی جنگ ہے۔ ان آپریشنز میں افواج پاکستان کے جوانوں اور افسران نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے تاکہ ملک کے طول وعرض میں امن بحال ہو سکے۔ سابق فوجیوں کا کردار محض علامتی نہیں بلکہ عملی طور پر بھی نہایت اہم ہے۔ ریٹائرڈ افسران اور جوان’ جنہوں نے میدان جنگ میں برسوں گزارے دہشتگردی کے خلاف حکمت عملی کی تشکیل’ تربیتی اداروں میں نوجوان نسل کی رہنمائی اور قومی بیانئے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ان کا تجربہ ایک ایسا سرمایہ ہے جو محض کتابوں یا نظریاتی تربیت سے حاصل نہیں ہو سکتا بلکہ برسوں کی عملی مشقت اور میدان عمل کے حقیقی تجربات سے حاصل ہوتا ہے۔ یہاں یہ کہنا بھی بے جا نہ ہو گاکہ سابق فوجی محض ماضی کی یادداشت نہیں بلکہ حال اور مستقبل کے لیے بھی ایک قیمتی وسیلہ ہیں۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ کے لیے سیاسی اتفاق رائے’ سماجی ہم آہنگی اور عوامی حمایت بھی فوجی حکمت عملی اور کارروائی جتنی ہی ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی افواج پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف کوئی بڑی کارروائی کی قوم نے بھرپور حمایت کا اظہار کیا۔ عوام کی یہ حمایت دراصل اس عزم کا اظہار ہے کہ ملک کی سلامتی صرف اداروں کی نہیں بلکہ ہر پاکستان کی ذمہ داری ہے۔ موجودہ حالات میں جب خطے میں عدم استحکام کے سائے گہرے ہو رہے ہیں، سابق فوجیوں کا تجربہ’ ان کی قربانیاں اور موجودہ قیادت پر ان کا اعتماد پاکستان کی دفاعی حکمت عملی ایک اہم ستون ہے آج ملک کو جن سکیورٹی چیلنجوں کا سامنا ہے ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ حاضر سروس افواج’ سابق فوجی’ سیاسی قیادت اور عوام سب متحد اور یک جہت ہوں۔ یہی اتحاد اور یکجہتی وہ اصل قوت ہے جو کسی بھی بیرونی یا اندرونی چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری ہے۔ افواج پاکستان کی قربانیاں اور سابق فوجیوں کا تجربہ ہماری قومی سلامتی کا وہ سرمایہ ہے جسے سنبھالنا اور جس سے بھرپور استفادہ کرنا پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ سابق فوجیوں کی رہنمائی مختلف سرکاری اور نجی اداروں’ تعلیمی شعبوں’ انتظامی امور اور نوجوانوں کی تربیت میں خاص طور پر مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کی زندگی کا نظم وضبط’ ذمہ داری کا احساس’ ٹیم ورک اور بحران سے نمٹنے کی صلاحیت نئی نسل کے لیے قابل تقلید مثال ہے۔ سابق فوجیوں کے تجربے کو منظم انداز میں قومی اداروں سے منسلک کیا جائے اور انہیں مشاورتی وتربیتی شعبوں میں مناسب مواقع فراہم کئے جائیں۔ یہ امر خوش آئند ہو گا کہ سابق فوجیوں کو قومی اثاثہ سمجھتے ہوئے ان کے تجربات سے مستقل بنیادوں پر فائدہ اٹھانے کا مؤثر نظام وضع کیا جائے۔ جو لوگ اپنی جوانی کا قیمتی حصہ ملک کی خدمت میں صرف کر چکے ہوں، ان کی صلاحیتوں اور تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں