فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) کمشنر فیصل آباد مسرت جبیں نے ہدایت کی ہے کہ فیصل آباد ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایف ڈی اے)میں منظوری کے مراحل سے گزرنے والی تمام پرائیویٹ ہائو سنگ سکیموں کی فائلوں کی تکمیل میں حائل محکمانہ رکاوٹو ں کو مربوط حکمت عملی سے دور کریں۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ این او سیز (NOCs) ، اجازت ناموں اور دیگر دفتری تقاضوں کی تکمیل کو ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنایا جائے تاکہ ہائوسنگ سکیموں کی جلد منظوری سے شہریوں کے مسائل حل ہو سکیں۔ یہ ہدایات انہوں نے کمشنر آفس میں منعقدہ ایک اعلی سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیں جس میں پرائیویٹ ہائوسنگ سکیموں کی منظوری اور درپیش مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر محمد نعمان صدیق بھی شریک تھے۔ڈائریکٹر جنرل ایف ڈی اے محمد آصف چوہدری نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ متعدد پرائیویٹ ہائوسنگ سکیموں کی منظوری مختلف متعلقہ محکموں سے این او سیز اور دیگر قانونی تقاضے مکمل نہ ہونے کے باعث زیر التوا ہے۔ انہوں نے ہائوسنگ سکیموں کی منظوری کے مراحل سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر متعلقہ ادارے باہمی تعاون اور بروقت کارروائی کو یقینی بنائیں تو ان سکیموں کی منظوری کے عمل کو تیز کیا جا سکتا ہے۔اجلاس میں سوئی ناردرن گیس، فیسکو، واسا، محکمہ ریونیو، انہار،تحفظ ماحول،ہارٹیکلچر ایجنسی اور دیگر متعلقہ اداروں کے اعلی افسران نے شرکت کی۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو شرینہ جنیجو،ایڈیشنل کمشنر کوآرڈینیشن تنویر مرتضی،ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف ڈی اے قیصر عباس رند،ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ محمد سرور،اسسٹنٹ کمشنر جنرل عطیہ عنایت،ڈائریکٹرز اسما محسن، جنید حسن منج، سہیل مقصود پنوں، یاسر اعجاز چٹھہ، افنان سعید سندھو اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔کمشنر مسرت جبیں نے کہا کہ شہریوں کو معیاری رہائشی سہولیات کی بروقت فراہمی حکومت پنجاب کی ترجیحات میں شامل ہے۔انہوں نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ باہمی رابطے کو موثر بناتے ہوئے زیر التوا این او سیز اور دیگر قانونی کارروائیاں جلد مکمل کی جائیں تاکہ ہائوسنگ سکیموں کی منظوری میں حائل رکاوٹیں دور ہوں اور شہریوں کو بجلی، سوئی گیس و دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی ممکن ہو سکے۔کمشنر نے ڈپٹی کمشنر کو ہدایت کی کہ وہ ایف ڈی اے سے منظوری کے مراحل سے گزرنے والی تمام پرائیویٹ ہائوسنگ سکیموں کے معاملات کا باقاعدگی سے جائزہ لیں اور این او سیز یا دیگر قانونی تقاضوں کی تکمیل میں رکاوٹوں کو تیز رفتاری سے دور کرنے کے لئے متعلقہ اداروں کو متحرک کیا جائے تاکہ منظوری کے عمل میں غیر ضروری تاخیر نہ ہو۔کمشنر نے کہا کہ پرائیویٹ ہائوسنگ سکیموں سے متعلق شہریوں کی شکایات کا بروقت ازالہ تمام متعلقہ محکموں کی مشترکہ ذمہ داری ہے لہذا ہر ادارہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے موثر کردار ادا کرے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام پرائیویٹ ہائوسنگ سکیموں میں سیوریج مین ہولز پر حفاظتی ڈھکنوں کی سو فیصد موجودگی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور جہاں ضرورت ہو وہاں اضافی حفاظتی اقدامات، مضبوط جالیوں اور حفاظتی انتظامات کی تنصیب بھی مکمل کی جائے۔انہوں نے واضح کیا کہ انسانی جانوں کے تحفظ سے متعلق معاملات کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جائے کیونکہ حکومت پنجاب نے اس حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔ اگر کسی بھی کھلے مین ہول یا حفاظتی غفلت کے باعث کسی شہری کی جان یا مال کو نقصان پہنچا تو متعلقہ ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔




