اسلام آباد (بیوروچیف) الیکٹرک بائیکس،رکشہ اور لوڈرزکی خریداری پرسبسڈی سکیم فیزٹوکی تفصیلات سامنے آ گئیں ۔دستاویز کے مطابق پہلے مرحلے میں41ہزار گاڑیوں کی فراہمی کا ہدف تھا،2 لاکھ 69 ہزارسے زیادہ لوگوں نے درخواست دی، 41,000 منتخب ہوئے،اب تک1,334الیکٹرک بائیکس ڈیلیور ہو چکی ہیں،سبسڈی بھی لوگوں کے اکائونٹس میں جارہی ہے۔ دوسرے مرحلے میں الیکٹرک بائیک پر 80 ہزار فی بائیک سبسڈی دی جائے گی، اضافی ایک لاکھ الیکٹرک بائیکس تین مہینوں میں لانچ ہوں گی،گریڈ 16اور نیچے والے سرکاری ملازمین کو بغیر سود بائیک/رکشہ ملے گا،پہلے دس ہزار روپے ادا کریں، باقی قسطوں میں تنخواہ سے کاٹا جائے گا،اب متعلقہ کمپنی براہ راست گاڑی دیگی۔حکومت کی طرف سے سبسڈی بعد میں کمپنی کو ملے گی،کم ابتدائی لاگت بائیکس، رکشہ اور. لوڈر کیلئے درخواست کا نیا طریقہ بھی وضح کر دیا گیا ہے، پہلے آنے والے کو پہلے ملے گا،صوبائی کوٹہ برقرار رہے گا، فلیٹ آپریٹرز یعنی بڑی کمپنیاں بھی شامل ہوں گی، دوسرے مرحلے میں 600 ٹاپ پوزیشن ہولڈر گورنمنٹ کالج طلبا کو مفت الیکٹرک بائیکس ملیں گی۔دھوکہ دہی سے بچنے کیلئے تھرڈ پارٹی کی تصدیق جاری رہے گی، اس سال 116,000 الیکٹرک بائیکس اور 3,170 رکشے، لوڈرز تقسیم کئے جائیں گے، تیل کی مد میں تین مہینوں میں بچت 8.6ملین لیٹر بچت ہو گی، ای سی سی نے دوسرے مرحلے کی توسیع شدہ اسکیم کی منظوری دیدی ہے۔




