لندن /واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) گزشتہ چند برسوں کے دوران صحت کے حوالے سے ایک نیا رجحان تیزی سے مقبول ہوا ہے۔ صحت مند افراد بھی دن بھر اپنے خون میں شکر کی مقدار جانچنے والے آلات استعمال کرنے لگے ہیں جبکہ کچھ لوگ سفید ڈبل روٹی، پاستا اور دیگر صاف شدہ کاربوہائیڈریٹس کو مکمل طور پر اپنی غذا سے نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔مصنفین، پوڈکاسٹرز اور صحت و تندرستی سے متعلق مواد بنانے والے بعض افراد نے یہ تصور بھی عام کیا ہے کہ ہر شخص کو خون میں شکر کی سطح میں اچانک اضافے پر نظر رکھنی چاہیے اور اسے روکنے کی کوشش کرنی چاہیے۔اس سوچ کے مطابق خون میں گلوکوز کی مقدار کا بڑھنا ہارمونز میں عدم توازن، کیل مہاسوں، موڈ میں اتار چڑھا اور دیگر مسائل کا سبب بن سکتا ہے حتی کہ ایسے افراد میں بھی جنہیں ذیابیطس یا کوئی اور میٹابولک بیماری لاحق نہ ہو۔تاہم ماہرین اب اس تصور پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ ان کے مطابق صحت مند افراد میں کھانے کے بعد خون میں شکر کی سطح کا کچھ دیر کے لیے بڑھ جانا جسم کا ایک معمول کا قدرتی ردعمل ہے اور ہر بار اسے خطرناک سمجھنے کی ضرورت نہیں۔جب ہم میٹھی غذائیں، پھل یا کاربوہائیڈریٹس سے بھرپور کھانے پیتے ہیں تو نظامِ ہاضمہ ان میں موجود شکر اور کاربوہائیڈریٹس کو گلوکوز میں تبدیل کرتا ہے۔ یہ گلوکوز خون میں جذب ہوتا ہے جس کے نتیجے میں خون میں شکر کی مقدار عارضی طور پر بڑھ جاتی ہے۔اس کے جواب میں لبلبہ انسولین نامی ہارمون خارج کرتا ہے۔ انسولین گلوکوز کو خون سے جسم کے خلیوں تک پہنچانے میں مدد دیتی ہے جہاں اسے توانائی کے حصول کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔صرف کھانا ہی خون میں گلوکوز کی مقدار نہیں بڑھاتا۔ شدید جسمانی ورزش کے دوران بھی ایڈرینالین جیسے ہارمونز جگر کو خون میں مزید گلوکوز خارج کرنے کا اشارہ دیتے ہیں تاکہ کام کرنے والے پٹھوں کو اضافی توانائی مل سکے۔امریکا میں ییل اسکول آف میڈیسن سے وابستہ بچوں کی ماہر غدودیات جینیفر شیئر کے مطابق اس عمل کے نتیجے میں خون میں گلوکوز کی مقدار عارضی طور پر بڑھ سکتی ہے۔ذیابیطس کے شکار افراد میں جسم یا تو مناسب مقدار میں انسولین پیدا نہیں کرتا یا انسولین مثر طریقے سے کام نہیں کرتی، جسے انسولین کی مزاحمت کہا جاتا ہے۔ایسی صورت میں کھانے کے بعد خون میں شکر کی مقدار خطرناک حد تک بڑھ سکتی ہے۔ اس لیے ذیابیطس کے مریضوں کے لیے غذا، ورزش اور خون میں شکر کی سطح کو باقاعدگی سے قابو میں رکھنا اہم ہے۔ بعض افراد کو انسولین یا میٹفارمن جیسی ادویات کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔صحت مند افراد میں کھانے کے بعد خون میں گلوکوز کی مقدار کا بڑھنا ایک معمول کا جسمانی عمل ہے۔برطانیہ کی یونیورسٹی کالج لندن میں غذائیت اور خوراک سے متعلق شعبے کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ایڈرین بران کے مطابق سب سے بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ خون میں گلوکوز کی ہر سطح میں اضافہ نقصان دہ ہوتا ہے۔عام طور پر کھانے کے تقریبا ایک گھنٹے بعد خون میں شکر کی سطح بلند ترین مقام پر پہنچتی ہے اور اس کے بعد تقریبا 2 گھنٹوں کے دوران دوبارہ معمول کی سطح پر آنا شروع ہوجاتی ہے۔ماہرین کے مطابق اگر یہ اضافہ مختصر مدت کے لیے ہو اور متعلقہ شخص کا جسم گلوکوز کو معمول کے مطابق قابو میں رکھتا ہو تو عام طور پر اس پر تشویش کی ضرورت نہیں۔مسئلہ اس وقت پیدا ہوسکتا ہے جب خون میں گلوکوز کی مقدار توقع سے زیادہ دیر تک بلند رہے۔ ییل اسکول آف میڈیسن کی جینیفر شیئر کے مطابق ایسا جسم کی جانب سے گلوکوز کو معمول کے مطابق منظم نہ کر پانے کی علامت ہوسکتا ہے۔یہ انسولین کی مزاحمت کی طرف بھی اشارہ کرسکتا ہے، جس میں جسم گلوکوز کے مقابلے میں معمول کے مطابق ردعمل نہیں دیتا۔ انسولین کی مزاحمت بالآخر پیشگی ذیابیطس اور ٹائپ 2 ذیابیطس کے خطرے کو بڑھا سکتی ہے۔ذیابیطس کے بعض مریضوں میں خون میں شکر کی مسلسل بلند سطح اعصاب اور آنکھوں کو نقصان پہنچانے کے ساتھ دل کی بیماری اور فالج سمیت دیگر پیچیدگیوں کا سبب بن سکتی ہے۔تاہم بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بات کے شواہد کافی نہیں کہ خون میں گلوکوز کی زیادتی براہ راست انسولین کی مزاحمت کا سبب بنتی ہے۔آکسفورڈ یونیورسٹی کی ماہر غذائیت اور سینیئر تحقیقی رکن نکولا گیس کے مطابق اس کی ایک ممکنہ وضاحت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ جب ہم جسم کی ضرورت سے زیادہ کیلوریز استعمال کرتے ہیں تو اضافی کیلوریز جسم میں چربی کی شکل اختیار کرلیتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں وزن بڑھ سکتا ہے جو ٹائپ ٹو ذیابیطس کا ایک اہم خطرہ ہے۔ذیابیطس کے مریض پہلے ہی باقاعدگی سے اپنے خون میں شکر کی مقدار کی نگرانی کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے مسلسل گلوکوز کی نگرانی کرنے والے آلات استعمال کیے جاتے ہیں جو دن بھر وقفے وقفے سے خون میں شکر کی سطح ریکارڈ کرتے رہتے ہیں۔اب ایسے آلات صحت مند افراد میں بھی تیزی سے مقبول ہورہے ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ جن افراد کو ذیابیطس نہیں ہے ان کے لیے عموما ان آلات کی ضرورت نہیں ہوتی۔ایک تحقیق میں ذیابیطس سے محروم افراد کے خون میں شکر کی سطح 96 فیصد وقت صحت مند حد کے اندر رہی۔ماہرین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ ایسے آلات بعض افراد کو غیر ضروری طور پر اپنی غذا تبدیل کرنے پر مجبور کرسکتے ہیں اور صحت کے بارے میں ان کے تصور کو متاثر کرسکتے ہیں خصوصا اس لیے کہ بعض صورتوں میں یہ خون میں شکر کی سطح کو ضرورت سے زیادہ ظاہر کرسکتے ہیں۔




