امریکہ ایران جنگ خطرناک صورتحال اختیار کرگئی

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا نے مسلسل ساتویں رات بھی ایران پر فضائی حملے کیے، جن میں یزد، اہواز، لار، بندرعباس، سیریک، جزیرہ قشم اور امیدیہ سمیت کئی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔امریکا نے ایران پرفضائی حملوں کا ایک اورسلسلہ مکمل کرلیا،یزدشہر دھماکوں سے گونج اٹھا، جبکہ اہواز، لار،بندرعباس،سیریک،جزیرہ قشم اورامیدیہ میں بھی شدید بمباری کی گئی،ہرمزگان صوبے میں حملوں کے نتیجے میں تین افراد جاں بحق اور آٹھ زخمی ہو گئے۔رپورٹس کیمطابق امریکی فوج نے تین پلوں اور اہم سرنگوں کو بھی نشانہ بنایا، جس کے بعد صوبے میں متعدد شاہراہیں اور رابطہ سڑکیں بند کر دی گئیں۔ امریکی سینٹ کام کاکہنا ہے کہ آبنائے ہرمزکی ناکہ بندی برقرار ہے اور حالیہ کارروائیوں کا مقصد ایران کی فوجی صلاحیتوں کو مزید کمزور کرنا ہے۔دریں ثناء ۔تہران کویت سٹی( مانیٹرنگ ڈیسک) ایران نے امریکا کے مسلسل ساتویں رات حملوں کے جواب میں کویت، بحرین اور اردن میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا اور بھاری نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے۔ایرانی فوج نے شمالی بحرِ ہند میں امریکی بحری جہاز پر کروز میزائل سے حملے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی حملے جاری رہے تو بھرپور جوابی کارروائی کریں گے۔ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب نے بھی بحرین میں امریکی ڈرونز کے ڈپو کو نشانہ بنانے کا دعوی کیا ہے، بحرین میں امریکی ڈرونز کے ڈپو کو نشانہ بنانے کے علاوہ مصنوعی ذہانت کے مرکز کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون سے تباہ کر دیا گیا ہے۔ادھر کویت کی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے کہا ہے کہ ملکی فضائی حدود میں داخل ہونے والے متعدد ایرانی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کو سراغ لگانے کے بعد فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔ایرانی حملوں کے دوران کویتی فوج کے کئی مراکز اور فوجی کیمپ ڈرون حملوں کا نشانہ بھی بنے، جس کے نتیجے میں زمینی افواج کے متعدد اہلکار زخمی ہوئے، تمام زخمیوں کی حالت اب خطرے سے باہر ہے۔کویتی فوج نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ایک بجلی گھر اور سمندری پانی کو پینے کے قابل بنانے کے پلانٹ یعنی ڈی سیلینیشن پلانٹ کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس سے اس کے ایک اہم حصے میں آگ بھڑک اٹھی اور بعض حصوں اور بجلی پیدا کرنے والے یونٹس کو بھی نقصان پہنچا۔اردن کی فوج نے کہا ہے کہ صبح سویرے ملک کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے ایران کے 10 میزائلوں کو اس کے فضائی دفاعی نظام نے کامیابی سے روک کر تباہ کر دیا۔فوج کے مطابق یہ کارروائی معمول کے دفاعی اقدامات کے تحت کی گئی تاکہ مملکت کی خودمختاری کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور عوام کی جان و مال کی حفاظت کی جا سکے۔فوج نے مزید بتایا کہ ان میزائلوں کو تباہ کرنے کے نتیجے میں نہ کوئی جانی نقصان ہوا اور نہ ہی کسی قسم کا مالی یا مادی نقصان ہوا، اس کے علاوہ، رائل انجینئرز کی ٹیموں نے متاثرہ مقامات سے میزائلوں کا ملبہ ہٹانے اور علاقے کو محفوظ بنانے کا کام بھی شروع کر دیا ہے۔دوسری طرف چند ہی گھنٹوں کے دوران تیسری مرتبہ بحرین بھر میں ہنگامی فضائی حملے کے سائرن بج اٹھے ہیں، جبکہ حکام نے شہریوں کو فوری طور پر محفوظ پناہ گاہوں میں جانے اور اپنی حفاظت کو یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں